دبئی ۔ حیان نیوف، ایجنسیاں
امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ پوری قوم ٹیکساس کی فوجی چھاؤنی میں ہلاک ہونے والے 13 افراد کے لیے سوگ وار ہے۔ تاہم انھوں نے خبردار کیا ہے کہ فورٹ ہڈ میں ہونے واقعے کی تفتیش مکمل ہونے سے پہلے قبل از وقت نتائج اخذ نہ کیے جائیں۔
فوجی حکام کا کہنا ہے کہ میجر نضال مالک حسن نے جمعرات کی سہ پہر چھاؤنی کی ایک عمارت کے اندر دو پستولوں سے گولیاں چلانا شروع کر دیں۔ اس عمارت میں ان فوجیوں کی تربیت کی جاتی ہے، جنہیں بیرونِ ملک تعینات کیا جاتا ہے۔
حسن کو ایک سویلین خاتون پولیس افسر نے چار گولیاں مار کر زخمی کر دیا تھا، تاہم اب اس کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
فورٹ ہڈ ہسپتال کے کمانڈر کرنل سٹیو بریومین نے بتایا ہے کہ وہ نضال کے ساتھ کام کر چکے ہیں اور وہ نضال کے فورٹ ہڈ پر کام کے دوران کسی مسئلے سے آگاہ نہیں ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس حملے کا مقصد معلوم نہیں ہو سکا، تاہم نضال کے ایک سابق رفیقِ کار نے انکشاف کیا ہے کہ نضال عراق اور افغانستان میں امریکی جنگ کا شدید مخالف تھا۔ اس نے مزید بتایا کہ نضال چھاؤنی کے ہسپتال میں نفسیاتی مسائل سے دوچار فوجیوں کا علاج کرتا تھا۔ کئی رپورٹوں میں اطلاع دی گئی ہے کہ نضال کو عراق یا افغانستان بھیجا جانے والا تھا۔
نضال امریکی ریاست ورجینیا کا رہنے والا ہے۔ اس نے 2003ء میں آرمی میڈیکل کالج سے میڈیکل کی ڈگری حاصل کی تھی۔
امریکی ریاست ٹیکساس کی فوجی چھاؤنی کے حکام نے اس سویلین خاتون پولیس افسر کی تعریف کی ہے جس نے جمعرات کے روز فائرنگ کرنے والے شخص کو گولی مار کر زخمی کر دیا تھا۔ اس واقعے میں 13 افراد ہلاک اور 31 زخمی ہوئے ہیں۔
فورٹ ہڈ کے ترجمان کرنل جان رَوسی نے بتایا کہ پولیس وومن کمبرلی منلے نے ملزم میجر نضال مالک حسن کو روک کر اس کے ساتھ گولیوں کا تبادلہ کیا جس میں نضال کو چار گولیاں لگیں۔ منلے اور نضال دونوں ہسپتال میں ہیں۔
صدر اوباما نے مرنے والے کے احترام میں 11 نومبر تک وائٹ ہاؤس اور دوسری سرکاری عمارتوں پر امریکی پرچم سرنگوں کرنے کا حکم دیا ہے۔
فورٹ ہڈ دنیا بھر کی سب سے بڑی فوجی چھاؤنیوں میں سے ایک ہے اور یہاں 30 ہزار کے قریب فوجی تعینات ہیں۔
