پرِنٹ کیجئے
بھیجئے
Bookmark and Share
مشاركة
بفته 19 ذو القعدة 1430هـ - 07 نومبر 2009م

بین کی مون غزہ جنگ رپورٹ سلامتی کونسل میں پیش کریں گے

امریکا اسرائیل کے خلاف غزہ جنگ رپورٹ کو سلامتی کونسل میں ویٹو کرسکتا ہے.
امریکا اسرائیل کے خلاف غزہ جنگ رپورٹ کو سلامتی کونسل میں ویٹو کرسکتا ہے.
 

اقوام متحدہ.ایجنسیاں

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون کا کہنا ہے کہ وہ بہت جلد غزہ جنگ سے متعلق رپورٹ مزید غور اور کارروائی کے لئے سلامتی کونسل میں پیش کردیں گے.

اقوام متحدہ،نیویارک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بین کی مون نے جمعہ کی رات کہا کہ وہ جنرل اسمبلی میں منظورکردہ قراردادکی روشنی میں غزہ جنگ سے متعلق عالمی ادارے کی تحقیقاتی رپورٹ کو سلامتی کونسل میں پیش کررہے ہیں.

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے گذشتہ روزغزہ جنگ سے متعلق گولڈاسٹون رپورٹ پرمبنی قرارداد کی کثرت رائے سے منظوری دی تھی جس میں اسرائیل اور فلسطینیوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ تین ماہ میں جنگی جرائم کی قابل اعتباراور آزادانہ تحقیقات کا آغازکریں.

جنرل اسمبلی نے یواین رپورٹ پر دودن کی بحث کے بعد قراردادکی منظوری دی تھی اوراقوام متحدہ کے کل ایک سوبانوے رکن ممالک میں سے ایک سوچودہ نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا.اٹھارہ نے اس کی مخالفت کی جبکہ چوالیس ممالک رائے شماری کے وقت اجلاس سے غیر حاضر رہے.

واضح رہے کہ یواین سیکرٹری جنرل بین کی مون جنرل اسمبلی میں منظورکردہ قراردادکی روشنی میں رپورٹ کو سلامتی کونسل میں پیش کرنے کے پابند ہیں.جنرل اسمبلی میں اسرائیل کے علاوہ اس کے قریبی اتحادی اور پشتی بان ملک امریکا،آسٹریلیا اوربعض یورپی ممالک نے قراردادکی مخالف کی تھی.

غزہ جنگ سے متعلق جنوبی افریقہ کے جج گولڈاسٹون کی مرتب کردہ رپورٹ میں اسرائیل پر کڑی تنقید کی گئی ہے.لیکن دوسری جانب اسرائیل نے اس کے مندرجات کی تردید کرتے ہوئے اس کے خلاف اپنے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے.

اسرائیل نے جمعہ غزہن جنگ رپورٹ کی توثیق کے لئے قرارداد کی منظوری پراقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کڑی تنقیدکرتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے.اسرائیلی وزرات خارجہ کے ترجمان یگال پامرنے ایک بیان میں الزام عاید کیا ہے کہ یواین جنرل اسمبلی کو ان زمینی حقائق کا بالکل بھی علم نہیں، جن کا اسرائیل کو سامنا ہے.

اسرائیلی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے غزہ جنگ کے دوران اعلیٰ عسکری اور اخلاقی معیار کا مظاہرہ کیا تھا.تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل کا اعلیٰ اخلاقی معیار یہ ہے کہ اس نے فلسطینیوں پرناجائزجنگ مسلط کی تھی اور ان پراندھا دھند بمباری کی تھی.جس سے چودہ سو سے قریب فلسطینی شہید اور پانچ ہزار سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے.

سابق بین الاقوامی پراسیکیوٹررچرڈ گولڈاسٹون کی سربراہی میں اقوام متحدہ کے بین الاقوامی پینل نے 575صفحات کو محیط اپنی رپورٹ میں سفارش کی ہے کہ اگراسرائیل اورغزہ کی حکمران فلسطینی تنظیم حماس جنگ سے متعلق قابل اعتبار تحقیقات کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو ان کے خلاف کارروائی کے لئے ان کا معاملہ ہیگ میں قائم عالمی فوجداری عدالت کو بھیج دیا جائے.

واپس اوپر
مضمون پر نقطہء نظر
 تبصرہ کیجئے

نام: 

موضوع: 

مندرجات: