اسلام آباد.العربیہ،ایجنسیاں
پاکستان کے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں سیکورٹی فورسز کے جاری آپریشن راہ نجات کے دوران مزید بارہ جنگجو ہلاک اور چودہ زخمی ہو گئے ہیں جبکہ پاک فوج کے ترجمان میجرجنرل اطہر عباس کا کہنا ہے کہ جنوبی وزیرستان میں فوجی کارروائی رکوانے کیلئے طالبان نے عام شہریوں کو ہدف بنان اشروع کر دیا ہے، لیکن عوام فوج کے ساتھ ہیں اور طالبان کا مکمل صفایا چاہتے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوبی وزیرستان کے علاقوں مکین، لدھا، سراروغہ میں سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان شدید جھڑپیں جاری ہیں۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے ہفتہ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ گذشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران جھڑپوں میں مزید بارہ شدت پسند مارے گئے ہیں اور ان کے چار ٹھکانوں کو تباہ کر دیا گیا۔
مکین اور لدھا میں سکیورٹی فورسز کے دستے داخل ہونے کے بعد شدت پسند شمالی وزیرستان اور کرم ایجنسی کی طرف فرار ہو رہے ہیں.جنوبی وزیرستان میں آپریش راہ نجات کے بعد نقل مکانی کرنیوالے افراد کی تعداد ساڑھے تین لاکھ ہو گئی۔
دوسری جانب شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ، تحصیل میر علی، تحصیل ڈوسلی اور علاقہ پویا سے لے کر کمرسر تک ہفتہ کی صبح چھ بجے سے غیر معینہ مدت کے لئے کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے اور علاقے میں اسکول اور دفاتر بند رہےہیں. شمالی وزیرستان کے مختلف علاقوں میں امریکی جاسوس طیاروں کی پروازیں کی اطلاعات ملی ہیں۔
اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے یو این ایچ سی آر کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق جنوبی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے باعث اڑتالیس ہزار خاندانوں نے نقل مکانی کی ہے. ادارے کی جانب سے متاثرین کو کمبل، خیمے، غذائی اجناس اوردوسری روزمرہ اشیاء فراہم کی گئی ہیں۔
ادارے کے مطابق پاکستان کے وفاق کے زیر انتظام تین قبائلی علاقوں باجوڑ، مہمند ایجنسی اور وزیرستان میں جاری آپریشن کے دوران اٹھاسی ہزار افرادنے نقل مکانی کی ہے اور وہ صوبہ سرحد کے مختلف علاقوں میں قائم کئے گئے دس عارضی کیمپوں میں قیام پذیرہیں اور کیلئے ادارے کی جانب سے جلد ریلیف پیکج کا اعلان کیا جائے گا۔
ادھر صوبہ سرحد کے ضلع ہنگو میں سکیورٹی فورسز سے جھڑپ میں پانچ شدت پسند مارے گئے ہیں۔ ہنگو کے علاقے تورہ وڑی میں جنگجوٶں نے سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر فائرنگ کی جس سے تین اہلکار جاں بحق ہو گئے۔سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے پانچ حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا ہے۔
 |
عوام فوج کے ساتھ پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے کہا ہے کہ جنوبی وزیرستان میں آپریشن رکوانے کیلئے طالبان نے عام شہریوں کو ہدف بنان اشروع کر دیا ہے، لیکن عوام فوج کے ساتھ ہیں اور طالبان کا مکمل صفایا چاہتے ہیں۔
پاک فوج کے ترجمان نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ جنوبی وزیرستان میں جاری آپریشن راہ نجات میں اب تک پاک فوج کے بیالیس افسر اور جوان شہید اور ایک سو تئیس زخمی ہوئے ہیں جبکہ چار سو چھالیس شدت پسند مارے گئے ہیں اور سولہ دہشت گرد سکیورٹی فورسز کی حراست میں ہیں۔
میجر جنرل اطہر عباس نے کہا کہ طالبان کے بنیادی مراکز کو اب سکیورٹی فورسز اپنے کنٹرول میں لے رہی ہیں۔طالبان کا اصل ہدف عوام کے ذہن ہیں اور وہ عوام کے رویوں میں تبدیلی لاناچاہتے ہیں لیکن اب یہ بات بالکل واضح ہے کہ عوام فوج کے ساتھ ہیں۔ طالبان اب کسی بھی طرح آپریشن بند کرانا چاہتے ہیں کیونکہ اگر حکومت آپریشن بند کرتی ہے تو انہیں براہ راست فائدہ پہنچے گا تاہم عوام میں نیا ولولہ سامنے آیا ہے اور وہ طالبان کا مکمل صفایا چاہتے ہیں۔
ایک سوال پر ترجمان پاک فوج نے بتایا کہ جنوبی وزیرستان میں موجود غیر ملکی دہشت گرد اور انکی سنیئر قیادت روپوش ہو گئی ہےلیکن وہ دوبارہ منظرعام پرآنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ طالبان کا پورے جنوبی وزیرستان پر قبضہ تھا اور انہوں نے پورے علاقے کو یرغمال بنائے رکھاتھا .ان کا انٹیلی جنس اور معلوماتی نیٹ ورک تباہ کر دیا گیا ہے اور انہیں ان تمام سہولیات سے محروم بھی کر دیا گیا ہے . |
