پرِنٹ کیجئے
بھیجئے
Bookmark and Share
مشاركة
اتوار 20 ذو القعدة 1430هـ - 08 نومبر 2009م

چینی وزیر اعظم قاہرہ میں مسلمانوں سے مخاطب

چینی وزیراعظم وین جیا باٶقاہرہ میں عرب لیگ کے اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں.
چینی وزیراعظم وین جیا باٶقاہرہ میں عرب لیگ کے اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں.
 

قاہرہ.ایجنسیاں

چینی وزیر اعظم وین جیا باٶ نے عالم اسلام کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کا ملک مسلمانوں کا خیر خواہ ہے. انہوں نے یہ بات ایسے وقت میں کہی ہے جب خود چین کو اپنے مسلمان شہریوں سے ناروا سلوک پر تنقید کا سامنا ہے.

انہوں نے کہا کہ چینی تہذیب اور اسلامی تہذیب کے درمیان برسوں پر انے تعلقات ہیں. وہ ہفتہ کے روز قاہرہ میں عرب لیگ کے ہیڈ کوارٹرز میں خطاب کر رہے تھے. ان کا کہنا تھا: ''چین ایک کثیر نسلی اور کثیر مذہبی ملک ہے. چینی حکومت کی بنیادی پالیسی تمام نسلی گروپوں کے درمیان مساوات کو یقینی بنانا ہے اور تمام علاقوں کی اقتصادی ترقی کو تیز کرنا ہے''.

یاد رہے کہ جولائی میں چین کے مسلم اکثریتی علاقے سنکیانگ میں یغور مسلمانوں اور چین کے بالادست نسلی گروپ ہن سے تعلق رکھنے والے افراد کے درمیان لڑائی میں ایک سو ستانوے افراد ہلاک اور سولہ سو سے زیادہ زخمی ہو گئے تھے.

اس واقعہ کے دو روز بعد ہن چینیوں نے یغور مسلمانوں پر حملے کئے تھے لیکن اس روز مارے گئے افراد کی حقیقی تعداد کے بارے میں آج تک اعداد وشمار سامنے نہیں آئے.ان نسل پرستانہ فسادات کے بعد سیکڑوں افراد کو گرفتار کر لیا گیا تھا.چینی صدر خوچن تھاٶ اور دوسرے لیڈروں نے بعد میں اعلان کیا تھا کہ ان واقعات میں ملوث افراد کو سخت سے سخت سزائیں دی جائیں گی.

واپس اوپر

کوئی امتیازی سلوک نہیں

چین میں یغور مسلمانوں سے مبینہ ناروا سلوک پر دنیا بھر میں چینی حکومت کی مذمت کی گئی تھی اور امریکا نے چین پر مذہبی عقائد اور سیاسی خیالات کے پرامن اظہار کو دبانے کا الزام عاید کیا تھا. لیکن وین جیا باٶ نے اپنی تقریر میں کہا کہ''چینی مسلمانوں سے کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا جا رہا''.

انہوں نے کہا :''چین میں دو کروڑ سے زیادہ دس نسلی گروپوں سے تعلق رکھنے والے مسلمان ہیں. یہ تمام لوگ چینی قوم کے ایک بڑے خاندان کے اراکین ہیں. ان کے عقائد، ثقافت اور طرز زندگی کا مکمل احترام کیا جاتا ہے''.

چینی وزیر اعظم نے مصر کے ساحلی مقام شرم الشیخ میں افریقی لیڈروں کے ساتھ کانفرنس سے قبل قاہرہ میں یہ اہم تقریر کی ہے. واضح رہے کہ چین اس وقت قدرتی وسائل سے مالا مال براعظم افریقہ میں اپنا سفارتی اور اقتصادی اثر ورسوخ بڑھانے کے لئے کوشاں ہے.

واپس اوپر

نئے معاہدے

وین جیا باٶ مصری حکام اور کاروباری شخصیات کے ایک اعلیٰ سطح کے وفد کے ساتھ مصر کے دورے پر گئے ہیں. ہفتہ کو انہوں نے مصری صدر حسنی مبارک اور وزیر اعظم احمد نضیف کے ساتھ ملاقات کی ہے جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور ثقافتی تعاون کے متعدد سمجھوتوں پر دستخط کئے گئے ہیں.

چینی کمپنیاں اپنے ملک کی روز افزوں معیشت کے لئے توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے افریقی ممالک میں تیل اور معدنی وسائل کے شعبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہی ہیں.

چینی حکومت نےسن 2006ء میں بیجنگ میں منعقدہ چین افریقہ سربراہ اجلاس کے موقع پر بر اعظم افریقہ کے ساتھ تجارتی تعلقات بڑھانے اور بھاری امداد دینے کا وعدہ کیا تھا.چینی کمپنیوں کی افریقہ میں 2003ء میں براہ راست سرمایہ کاری کا حجم انچاس کروڑ دس ڈالرز تھا جو 2008ء میں بڑھ کر سات ارب اسی کروڑ ڈالرز ہو چکا تھا اور رواں عشرے کے آغاز سے اب تک چین اور افریقی ممالک کے درمیان تجارتی حجم دس گنا سے زیادہ تک بڑھ چکا ہے.

بعض مغربی ممالک سے تعلق رکھنے والے ناقدین چین پر یہ بھی الزام عاید کر رہے ہیں کہ وہ قدرتی وسائل تک رسائی کے لئے کوششوں کے دوران سوڈان اور زمبابوے جیسے ممالک کی حمایت کر کے افریقہ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی حمایت کا بھی مرتکب ہو رہا ہے.

واپس اوپر
مضمون پر نقطہء نظر
 تبصرہ کیجئے

نام: 

موضوع: 

مندرجات: