مصر: ذہنی معذور پر تشدد، پولیس افسر کو پانچ سال قید کی سزا

پولیس کی مار پیٹ کے شکار شخص کو دماغ کی سرجری کرانا پڑی

نشر في:

مصر کے شہر اسکندریہ میں ایک عدالت نے ذہنی معذور شخص کو گرفتار کرنے اور دوران حراست تشدد کا نشانہ بنانے پر ایک پولیس افسر پانچ سال قید کی سزا سنائی ہے.

مصر کے سکیورٹی ذرائع کے مطابق پولیس کے افسر میجر اکرم سلیمان نے جولائی 2008ء میں ذہنی معذور شخص کو گرفتار کیا تھا اور اسکندریہ کے ایک پولیس اسٹیشن میں لے جا کر اس پر تشدد کیا تھا.

پولیس افسر کےتشدد کا نشانہ بنانے والے انتیس سالہ نوجوان کا نام رغئی سلطان بتایا گیا ہے. پولیس نے اسے کسی الزام کے بغیر آٹھ دن تک زیرحراست رکھا تھا اور بعد میں اسے ایک اسپتال میں منتقل کر دیا گیا تھا.

ذرائع کے مطابق پولیس کے تشدد سے اس نوجوان کے دماغ میں خون کا ایک لوتھڑا جم گیا تھا جس کو اسپتال میں سرجری کے بعد ہٹایا گیا تھا.عدالت نے ہفتہ کے روز مقدمے کے تمام شواہد کی روشنی میں پولیس میجر سلیمان کو مجرم قرار دیتے ہوئے انہیں پانچ سال قید کی سزا سنائی ہے.

مصر میں انسانی حقوق کے علمبردار کارکنان اور تنظیمیں پولیس پر زیر حراست افراد کو تشدد کا نشانہ بنانے پر تنقید کرتی رہتی ہیں.حالیہ برسوں کے دوران مصری پولیس کے جبر وتشدد اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے واقعات کے بیسیوں ویڈیو کلپس انٹرنیٹ سائٹس پر پوسٹ کئے گئے ہیں.