سکولوں میں موسیقی کی تعلیم پر کویتی رکن پارلیمنٹ نالاں

موسیقی کو لازمی مضمون قرار دینے پر وزیر اعظم سے باز پرس

نشر في:

سخت گیر کویتی رکن پارلیمنٹ نے سکولوں میں موسیقی کی لازمی تعلیم کے فیصلے پر شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے وزیر اعظم کو ایوان میں اس فیصلے پر ہماری کڑی تنقید سننے کے لئے تیار رہنا چاہئے۔

رکن پارلیمنٹ محمد حائف نے اتوار کے روز ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ " ہم وزیر اعظم کو اس فیصلے کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ اس اعلان پر عمل درآمد روکا جائے ورنہ ہم دستوری طریقے اختیار کر کے اسے رکوائیں گے۔ ہم وزیر اعظم سے پارلیمنٹ میں اس بارے میں سخت سوالات کریں گے

رکن پارلیمنٹ حائف سلفی مکتبہ فکر سے تعلق کویت کی انتہائی قدامت پسند اسلامی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی جماعت دوسری چیزوں کے ساتھ موسیقی کو بھی حرام سمجھتی ہے۔ مسٹر حائف کا کہنا ہے کہ ہم اپنے تعلیمی اداروں کو رقص کے گریجویٹ مراکز نہیں بننے دیں گے۔

راسخ العقیدہ مسلمانوں کے اعتراض کے باوجود کویتی سکولوں میں موسیقی کا مضمون نصاب کا حصہ رہا ہے لیکن حال ہی میں وزارت تعلیم نے اس مضمون میں حاصل کردوں نمبروں کو مجموعی نتیجے کا حصہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے جس سے اس مضمون میں بہتر کارکردگی نہ دکھانے والے طلبہ کا نتیجہ خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔

مسٹر حائف نے مطالبہ کیا کہ پرانے نظام تعلیم کو بحال کیا جائے ورنہ وہ کویتی مدارس میں موسیقی کی تعلیم پر پابندی کا بل پیش کریں گے۔ "کویتی وزارت تعلیم کا فیصلہ معاشرے کو مغربی رنگ میں رنگنے کی کوشش ہے۔"

کویتی پارلیمنٹ میں راسخ العقیدہ ممبران کی اکثریت ہے اور حکومت نے ان ہی کے دباو پر ملک محافل موسیقی پر پابندی عائد کئے رکھی۔