چارسدہ: کار بم دھماکے میں 30 افراد جاں بحق، 100 زخمی
ایک مصروف بازار کے باہر عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا
پاکستان کے شمال مغربی سرحدی صوبہ کے ضلع چارسدہ میں ایک کار بم دھماکے کے نتیجے میں تیس افراد جاں بحق اور ایک سو سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں.
ڈسٹرکٹ پولیس افسر چارسدہ محمد ریاض خان نے صحافیوں کو بتایاہے کہ کار بم دھماکا منگل کی سہ پہر سوا چار بجے کے قریب تنگی روڈ پر فاروق اعظم چوک میں ہواجہاں شہر کی مرکزی غفور مارکیٹ واقع ہے.دھماکے کے وقت علاقے میں لوگوں کا بہت رش تھا.
.ایک سنئیر پولیس افسر لیاقت علی کا کہنا ہے کہ یہ ایک خودکش کار بم دھماکا تھا حملے کے لئے چالیس کلو گرام دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا ہےاور اس میں جاں بحق اور زخمی ہونے والے تمام عام شہری ہیں.انہوں نے بم دھماکے میں تیس افراد کے جاں بحق اور ایک سو دو کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے.
جاں بحق ہونے والوں میں تین خواتین اور سات بچے بھی شامل ہیں۔اسپتال ذرائع کے مطابق بعض زخمیوں کی حالت نازک ہے جس کی وجہ سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔
دھماکا اتنا شدید تھا کہ اس سے متعدد گاڑیاں، رکشے اور دکانیں تباہ ہو گئی ہیں اور آس پاس کے علاقے میں عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے.دھماکے کے بعد شہر کے سرکاری اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے جبکہ چھے شدید زخمیوں کو لیڈی ریڈنگ اسپتال پشاور منتقل کر دیا گیا ہے۔
صوبہ سرحد میں گذشتہ تین روز میں یہ تیسرا خودکش بم دھماکا ہے.اتوار اور سوموار کو صوبائی دارالحکومت پشاور میں دو خودکش بم دھماکے ہوئے تھے جن میں بیس سے زیادہ افراد جاں بحق ہو گئے تھے.واضح رہے کہ گذشتہ سوا دو سال کے دوران پاکستان کے مختلف شہروں میں خودکش حملوں اور کار بم دھماکوں میں ڈھائی ہزار سے زیادہ افراد جاں بحق ہو چکے ہیں.زیادہ تر بم دھماکوں کی کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے ذمہ داری قبول کی ہے.
مزید حملوں کی دھمکی
طالبان جنگجوٶں نے جنوبی وزیرستان اور دوسرے قبائلی علاقوں میں پاکستانی سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے رد عمل میں گذشتہ چار ہفتے کے دوران راول پنڈی میں پاک آرمی کے جنرل ہیڈکوارٹرز سمیت ملک کے مختلف شہروں میں متعدد بم دھماکے اور حملے کئے ہیں جن میں ساڑھے تین سو سے زیادہ شہری جاں بحق ہوچکے ہیں.
پاکستانی طالبان کے ترجمان اعظم طارق نے کسی نامعلوم مقام سے ٹیلی فون پر فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی ملیشیا شہروں میں حملوں کا سلسلہ جاری رکھے گی، یہ ہماری مستقل حکمت عملی کا حصہ ہیں اور ہم ہر اس شخص کو نشانہ بنائیں گے جو ہمیں نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا''.
طالبان کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے جنوبی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کے خلاف گوریلا جنگ شروع کر دی ہے اور وہ سکیورٹی فورسز کی سخت مزاحمت کر رہے ہیں جبکہ پاک فوج نے طالبان جنگجوٶں کے خلاف جاری آپریشن راہ نجات میں گذشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران مزید نو جنگجوٶں کو ہلاک کر دیا ہے.
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آرنے منگل کو ایک بیان میں کہا ہے کہ کارروائی کے دوران طالبان کی ایک نجی جیل بھی برآمد ہوئی ہے اور ان کے غاروں میں بنائے گئے بنکروں کو تباہ کر دیا گیا ہے. پاک فوج کے مطابق جنوبی وزیرستان میں جاری کارروائی کے دوران اب تک چار سو پچانوے جنگجو مارے جا چکے ہیں جبکہ چھیالیس سکیورٹی اہلکار جاں بحق ہوئے ہیں.طالبان جنگجوٶں کے خلاف آپریشن راہ نجات میں تیس ہزار سکیورٹی اہلکار حصہ لے رہے ہیں.