صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں ایرانی قونصلیٹ کے پاکستانی اہلکار ابوالحسن جعفری نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ میں جاں بحق ہو گئے۔ ابھی تک کسی تنظیم نے گھات حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
تفصیلات کے مطابق پشاور میں قائم ایرانی قونصلیٹ کے ڈائریکٹر پبلک ریلیشن ابوالحسن جعفری دفتر جانے کے لئے اپنے گھر سے نکلے ہی تھے کہ سامنے سے دو نامعلوم افراد نے فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں ابو الحسن جعفری شدید زخمی ہو گئے۔ فائرنگ کے بعد مقامی لوگوں نے انہیں طبی امداد کیلئے قریبی اسپتال پہنچایا جہاں وہ جانبر نہ ہو سکے۔
اسلام آباد میں ایرانی سفیر ماشاء اللہ شکری نے ابو الحسن جعفری کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔ ایرانی قونصل جنرل عباس علی عبد اللہ نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے پاکستان اور ایران کے دشمنوں کا منصوبہ قرار دیا ہے جس کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کشیدہ کرنا ہے۔
درایں اثنا پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی "بہیمانہ جرم" کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجرموں کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ شمالی مغربی سرحدی صوبے کے وزیر اعلی امیر حیدر خان ہوتی نے پشاور میں ایرانی قونصل خانے کے اہلکار کے قتل کے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیدیا ہے۔
یاد رہے کہ گذشتہ برس 13 نومبر کو پشاور ہی میں ایرانی قونصلیٹ کے کمرشل اتاشی حشمت اللہ اطہر زادے گھر سے دفتر جا رہے تھے کہ فیزفور کے علاقے میں نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی کو روکا اور انہیں اپنے ساتھ کسی نامعلوم مقام پر لے گئے۔ انہوں نے کہا کہ مسلح افراد نے گاڑی پر فائرنگ بھی کی جس سے ایرانی اہلکار کا محافظ ہلاک ہو گیا تھا۔ حشمت اللہ اطہر زادے کو تاحال بازیاب نہیں کرایا جا سکا۔
ابوالحسن جعفری کا شمار پشاور کے سینیئر ترین صحافیوں میں سے ہوتا تھا۔ وہ اگست 1953 میں پشاور میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ نسلاً قزلباش تھے۔ وہ ستر کی دہائی میں پشاور سول سیکریٹریٹ میں ملازم تھے جس سے انہوں نے بعد میں استعفیٰ دے دیا۔
ابوالحسن جعفری صوبہ سرحد کے سابق وزراء اعلیٰ مولانا مفتی محمود اور ارباب محمد جہانگیر کے پرسنل سٹاف کا حصہ بھی رہے تھے۔ انہوں نے 1985 میں انگریزی اخبار فرنٹیئر پوسٹ میں سٹی رپورٹرسے صحافت کا باقاعدہ آغاز کیا۔ انہوں نے پاکستان آبزرور، کسوٹی اور ملک کے دیگر اردو اور انگریزی اخبارات کے ساتھ کام کیا ہے۔
بائیس برس قبل وہ پشاور میں واقع ایرانی قونصلیٹ کے ساتھ بھی منسلک ہوئے جہاں وہ آج کل شعبہ تعلقات عامہ کے انچارج اور پولیٹکل آفیسر کے طور پر خدمات سرانجام دے رہے تھے۔ انہیں ہندکو کے علاوہ پشتو، اردو، فارسی، عربی اور فرانسیسی زبان پر بھی عبور حاصل تھا۔