یمنی باغیوں کے سربراہ کا سعودی عرب سے جنگ بندی کا مطالبہ

سعودی فورسز یمن کے ساتھ سرحد کو کلئیر کرانے کے لئے تیار

نشر في:

سعودی فورسز نے اپنی حدود میں دراندازی کرنے والے یمنی باغیوں کے خلاف کارروائی جاری رکھی ہوئی ہےجبکہ باغی لیڈر یحییٰ الحوثی نے سعودی عرب سے جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کا گروپ اس سلسلہ میں بات چیت کے لئے تیارہے.

بدھ کی رات العربیہ کے ساتھ ایک انٹرویو میں یمنی باغیوں کے لیڈر نے کہا کہ ''ہم سعودی عرب پرزوردیتے ہیں کہ وہ فوجی حملے بند کردے اور مذاکرات شروع کرے''.ان کا کہنا تھا کہ ہماری سعودی عرب کے ساتھ کوئی جنگ نہیں ہے.

لیکن سعودی عرب اپنے سرحدی علاقے میں دراندازی کرنے والے یمنی باغیوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کے لئے مزید فوج تعینات کررہا ہے اورنائب وزیردفاع شہزادہ خالد بن سلطان کا کہناہے کہ سعودی مملکت کی سرحدوں کو حوثی باغیوں سے پاک کرانے اور انہیں یمنی علاقے کی جانب پیچھنے دھکیلنے کے لئے کارروائی جاری رکھی جائے گی.

سعودی عرب کی تبوک بیس سے ایک ہزار تین سو کے قریب چھاتہ برداروں کو جنگ والے علاقے میں بھیجا گیا ہے اور جازان کے عبداللہ ائیرپورٹ پر قائم کردہ ایک ''فضائی پل'' کے ذریعے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی سرحدی علاقے میں منتقل کیا جارہا ہے.

سعودی فوج کی جانب سے حوثی باغیوں کی مزاحمت کو کچلنے کے لئے سخت بیانات کے بعد متعددباغی لیڈروں نے جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے اورانہوں نے تنازعے کے حل کے لئے دوسرے ذرائع اختیار کرنے پر بھی اپنی آمادگی ظاہرکی ہے.

العربیہ کے نمائندوں کی اطلاع کے مطابق حوثی باغیوں کے ایک گروپ نے دوروزپہلے ایک سعودی پولیس اسٹیشن پرحملہ کیا تھا.جس پران کا فوجیوں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ ہوا تھا.اس واقعہ کے بعد وہ فرارہوکرایک اسپتال میں داخل ہوگئے تھے.

اس واقعہ کے چند گھنٹے کے بعد باغیوں نے اسپتال سے فائرنگ شروع کردی تھی اورسعودی سکیورٹی فورسز کے ساتھ لڑائی میں ان کے دوساتھی ہلاک ہوگئے تھے جبکہ باقی کسی اورعلاقے کی جانب فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے.

العربیہ کے مطابق جنگ والے علاقے میں واقع الخوبہ میں سعودی عرب کا شہری دفاع کا مرکزقائم ہے اور حوثی باغیوں کے شہری تنصیبات پر حملوں کے بعد اس مرکز کو بھی بند کیا جارہا ہے اوراس کوعارضی طور پر سرحدسے پچاس کلومیٹردوراحدالمسریحہ کے علاقے میں منتقل کیا جارہا ہے.