جمعرات 12 ربيع الثاني 1432هـ - 17 مارچ 2011م
آخری وقت اشاعت: بدھ 26 ذی القعدہ 1431هـ - 03 نومبر 2010م KSA 13:02 - GMT 10:02

اسرائیلی میڈیا نے قاتل کو ''یہودی دہشت گرد'' قرار دیا ہے

دو فلسطینیوں کے قتل پر امریکی صہیونی آباد کار پر فرد جرم عاید

جمعرات 24 ذی القعدہ 1430هـ - 12 نومبر 2009م
مقبوضہ مغربی کنارے کی ایک یہودی بستی میں مقیم امریکی تارک وطن جیک ٹیٹل کو مقبوضہ بیت المقدس کی عدالت میں پیش کیا جا رہا ہے.
مقبوضہ مغربی کنارے کی ایک یہودی بستی میں مقیم امریکی تارک وطن جیک ٹیٹل کو مقبوضہ بیت المقدس کی عدالت میں پیش کیا جا رہا ہے.
مقبوضہ بیت المقدس.ایجنسیاں

مقبوضہ بیت المقدس کی ڈسٹرکٹ کورٹ میں ایک امریکی نژاد انتہا پسند یہودی آباد کار پر دو فلسطینیوں کے قتل، متعدد بم حملوں اور ناجائز اسلحہ رکھنے کے الزامات پر فرد جرم عاید کر دی گئی ہے.

اسرائیلی پولیس نے سینتیس سالہ امریکی تارک وطن جیک ٹیٹل کو اکتوبر میں قتل اور بم حملوں کے الزامات پر گرفتار کیا تھا.اس پر الزام تھا کہ اس نے 1997ء میں ایک سیاح کی حیثیت سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے دورہ کے موقع پر دو فلسطینیوں کو قتل کر دیا تھا اور 2006ء کے بعد ہوئے متعدد بم حملوں میں اس کا ہاتھ تھا.

اس انتہا یہودی نے جمعرات کو عدالت میں پیشی کے موقع پر رپورٹروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے خدا کی خدمت گزاری کرنے کو ایک اعزاز اور باعث خوشی سمجھتا ہے.اس کا کہنا تھا کہ اس کو اپنے کئے پر کوئی افسوس یا پچھتاوا نہیں ہے. اسرائیلی میڈیا نے اسے ''یہودی دہشت گرد''قرار دیا ہے.یہ انتہا پسند اس عقیدہ کا حامل تھا اور اسے یقین ہے کہ خدا نے اس کے ان افعال کی منظوری دی تھی.

مقامی میڈیا کے مطابق ٹیٹل پرکل چودہ الزامات پرفرد جرم عاید کی گئی ہے جن میں قتل عمد کے دو اور ارادہ قتل کے تین الزامات شامل ہیں.اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے مقبوضہ بیت المقدس میں ایک فلسطینی ڈرائیور اور دریائے اردن کے مغربی کنارے میں ایک فلسطینی چرواہے کو قتل کرنے کا اعتراف کیا ہے.اس کا کہنا ہے کہ اس نے ان جرائم کا ارتکاب اسرائیل میں فلسطینیوں کے فدائی بم حملوں کے جواب میں کیا تھا.

ٹیٹل پر یہ بھی الزام عاید کیا گیا ہے کہ اس نے دو سال پہلے مقبوضہ بیت المقدس کے نواح میں واقع بیت شمیش کے علاقے میں ایک کانونٹ کے قریب بم نصب کیا تھا جس کے دھماکے کے نتیجے میں ایک فلسطینی زخمی ہو گیا تھا.

اس نے پارسل میں عیسائیت قبول کرنے والے ایک یہودی فرقے کے خاندان کو کھلونے کی شکل کا ایک بم بھیجا تھا جس کو کھولتے ہی دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں ان کا پندرہ سالہ بیٹا شدید زخمی ہو گیا تھا اور اس قوت سماعت بھی جاتی رہی تھی.

پولیس کے مطابق ٹیٹل کے نصب کردہ ایک اور بم کے دھماکے میں بائیں بازو کے ایک معروف اسرائیلی پروفیسر ضیف اسٹرن ہل زخمی ہو گئے تھے جبکہ اس نے دو اور بم حملوں میں پولیس تھانوں کو نشانہ بنایا تھا.

اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ اسے ہم جنس پرستوں کے خلاف پوسٹر لگانے کے الزام میں اکتوبر میں گرفتار کیا گیا تھا اور اس نے اعتراف کیا تھا کہ اس نے تھانوں پر پولیس کو ہم جنس پرستوں کو تحفظ فراہم کرنے سے روکنے کے لئے بم دھماکے کئے تھے.

چار بچوں کا باپ یہ انتہا پسند یہودی قاتل مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم شووت راشیل کی یہودی بستی میں رہ رہا تھا. اس کے خلاف مقدمے کی سماعت کے لئے عدالت نے ابھی کوئی تاریخ مقرر نہیں کی. اسرائیلی قانون کے تحت ایک قتل کی زیادہ سے زیادہ سزا عمر قید ہے.