فلسطینی الیکٹورل کمیشن نے مقبوضہ علاقوں میں جنوری میں ہونے والے عام انتخابات غیرمعینہ مدت کے لئے ملتوی کردئیے ہیں اوراس کا کہنا ہے کہ موجودہ صورت حال میں غزہ کی پٹی میں انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں.
الیکٹورل کمیشن کے سربراہ حنہ ناصر نے مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''مجھے بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ بدقسمتی سے انتخابات ملتوی کردئیے جائیں گے''.
''ہم پر یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ غزہ کی پٹی میں موجودہ صورت حال میں انتخابات منعقد نہیں کرائے جاسکتے'':ان کا کہنا تھا.
ایک سنئیرفلسطینی عہدے دار نے اس سے پہلے بتایا تھاکہ صدرمحمود عباس کوجنوری میں ہونے والے انتخابات کوملتوی کرنے کے لئے سفارش موصول ہوگئی ہے اور وہ اس کومنظورکرلیں گے.
حماس کے ترجمان سامی ابوزہری نے انتخابات کے التوا پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا ہے کہ انہیں اس فیصلے پر کوئی حیرت نہیں ہوئی.انہوں نے کہا کہ الیکٹورل کمیشن کا فیصلہ انتخابات کے انعقاد کے لئے مناسب ماحول کی عدم دستیابی کا نتیجہ ہے اوریہ حماس کے موقف کی بھی تائید ہے جس نے قومی اتفاق رائے سے قبل انتخابات کے انعقاد کو مسترد کردیا تھا.
واضح رہے کہ غیر معینہ مدت کے لئے فلسطینی انتخابات کے التوا کے فیصلے کی تنظیم آزادی فلسطین پی ایل او سے توثیق ہونا ضروری ہے.پی ایل او کے سربراہ محمود عباس ہیں اور اسے ہی فلسطینی صدر کی مدت میں بھی غیر معینہ عرصہ کے لئے توسیع کا اختیار حاصل ہے.
فلسطینی صدر محمود عباس نے حماس کی بالادستی والی موجودہ پارلیمنٹ کی آئینی مدت پوری ہونے کے بعد چوبیس جنوری کو پارلیمانی اور صدارتی انتخابات کے بیک وقت انعقاد کا اعلان کیا تھا.
لیکن دوسری جانب غزہ کی حکمران فلسطینی تنظیم حماس نے صدر محمود عباس کے اعلان کو غیر آئینی اقدام قراردیا تھا اوراس کا کہنا تھا کہ فلسطینی صدر کی اپنی مدت جنوری میں ختم ہورہی ہے،اس لئے انہیں نئے انتخابات کرانے کا اختیارحاصل نہیں ہے.
حماس نےجون 2007ء میں پندرہ لاکھ آبادی والے علاقے غزہ کی پٹی پر فتح تحریک کو نکال باہر کرنے کے بعد اپنی حکومت قائم کی تھی.اس نے خبردارکیا تھا کہ وہ غزہ میں انتخابات منعقد نہیں ہونے دے گی.
2006ء میں منعقدہ گذشتہ انتخابات میں حماس نے ایک سو بتیس رکنی پارلیمنٹ کی چوہترنشتسوں پر کامیابی حاصل کی تھی جبکہ فتح نے پینتالیس نشستیں حاصل کی تھیں.ان انتخابات کے بعد حماس نے غزہ اور مغربی کنارے میں حکومت بنائی تھی لیکن صدر محمود عباس نے مغربی ممالک کے دباٶ پر اس کی حکومت کو ختم کردیا تھا.
محمودعباس نے چند روز قبل دوبارہ صدارتی انتخابات میں حصہ نہ لینے کا اعلان کیا ہے.ان کے قریبی معاونین کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ فیصلہ امریکا کی جانب سے اسرائیل کو یہودی بستیوں کی تعمیر منجمد کرنے سے روکنے اورمشرق وسطیٰ امن مذاکرات کی بحالی میں ناکامی کے بعد مایوسی کے عالم میں کیا ہے.
فلسطینی صدر نے حماس کی جانب سے مصر کے پیش کردہ مصالحتی معاہدے پر دستخطوں سے انکار کے بعد صدارتی اورپارلیمانی انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا تھا.اس معاہدے میں جون 2010ء میں انتخابات کے انعقاد کی تجویز پیش کی گئی تھی.