جمعرات 12 ربيع الثاني 1432هـ - 17 مارچ 2011م
آخری وقت اشاعت: بدھ 26 ذی القعدہ 1431هـ - 03 نومبر 2010م KSA 13:02 - GMT 10:02

حملوں کا ہدف حساس ادارے کا دفتر اور پولیس تھانے تھے

صوبہ سرحد میں دو خود کش کار بم حملے، 17 افراد جاں بحق، 100 زخمی

جمعہ 25 ذی القعدہ 1430هـ - 13 نومبر 2009م
پشاور میں آئی ایس آئی کے دفتر میں جمعہ کی صبح ہونے والے خود کش بم دھماکے کے بعد تباہی کا منظر
پشاور میں آئی ایس آئی کے دفتر میں جمعہ کی صبح ہونے والے خود کش بم دھماکے کے بعد تباہی کا منظر
اسلام آباد ۔ العربیۃ۔نیٹ

پاکستان کے شمال مغربی سرحدی صوبے کے صدر مقام پشاور اور وزیرستان سے ملحقہ ضلع بنوں میں جمعہ کے روز علی الصباح دو الگ الگ خود کش کار بم حملوں میں 17 افراد جاں بحق جبکہ 100 سے زائد زخمی ہو گئے۔

پہلا خود کش حملہ پشاور میں پاکستان فوج کے خفیہ ادارے انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کی ایک عمارت کے سامنے قائم چیک پوسٹ پر ہوا۔ اس کار بم حملے میں سات سیکیورٹی اہلکاروں سمیت بارہ افراد جاں بحق جبکہ ستر سے زیادہ زخمی ہوئے۔

تفصیلات کے مطابق مقامی وقت صبح 06:45 بارود سے بھری گاڑی میں سوار ایک خود کش حملہ آور کو آئی ایس آئی کے دفتر کے سامنے واقع چیک پوسٹ پر تعنیات اہلکاروں نے روکنے کی کوشش کی کہ اس نے خود ایک دھماکے کے ساتھ اڑا لیا۔

عینی شاہدوں کے مطابق اس موقع پر فوجی اہلکاروں نے گاڑی پر فائرنگ بھی کی۔
پشاور کے ڈسٹرکٹ کوارڈینش آفیسر (ڈی سی او) صاحبزادہ انیس نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دھماکے میں بارہ افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے۔ زخمیوں کو کمبائنڈ ملٹری ہسپتال کے علاوہ شہر کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق بہت سے زخمیوں کی حالت نازک ہے۔

ڈی سی او پشاور نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ صبح کے وقت خیبر روڈ پر رش نہ ہونے کی صورت میں جانی نقصان کم ہوا ہے۔ اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے جبکہ خبیر روڈ کو بند کر دیا گیا ہے جبکہ اسکول بھی بند کر کے امتحانات ملتوی کر دیئے گئے ہیں۔

عینی شاہدین نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ دھماکا خیبر روڈ پر آرمی اسٹیڈیم کے قریب واقع آئی ایس آئی کی عمارت کے قریب گاڑی میں ہوا۔ دھماکے سے دفتر کے کمپاونڈ کی بیرونی دیوار منہدم ہو گئی جبکہ عمارت کو بری طرح نقصان پہنچا ہے۔ دھماکا انتہائی شدید تھا جس سے پورا شہر لرز اٹھا، فوج نے دھماکے کے بعد فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ علاقہ انتہائی حساس ہے، وزیراعلی سرحد کا دفتر اور گورنر ہاوس دھماکے سے تھوڑی ہی دور واقع ہیں۔

بنوں خود کش حملہ

درایں اثنا صوبہ سرحد کے جنوبی ضلع بنوں میں پولیس سٹیشن پر ہونے والے خود کش حملے میں کم از کم پانچ اہلکار جاں بحق اور تیس زخمی ہو گئے۔

حکام کے مطابق جمعہ کی صبح سات بجکر دس منٹ پر ایک مشتبہ خود کش بمبار نے بارود سے بھری گاڑی کو صوبے کے زیر انتظام بکاخیل پولیس اسٹیشن کی عمارت کے ساتھ ٹکرا دیا۔ اس حملے میں پانچ پولیس اہلکار جاں بحق اور سولہ زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں کو بنوں ہسپتال پہنچایا گیا ہے جہاں پر بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

بکاخیل بنوں شہر سے تقریباً بیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور اس کی سرحد شمالی وزیرستان سے ملتی ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان فوج کی قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں فوجی کارروائی شروع ہونے کے بعد سے ملک میں ہونے والے بم دھماکوں اور خودکش حملوں میں اب تک تین سو سے زیادہ افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

کابل میں بم حملہ

درایں اثناء ہمسایہ ملک افغانستان کے دارالحکومت کابل میں نیٹو فوج کے زیر استعمال ایک بیس پر ایک خود کش حملے کے نتیجے میں بم دھماکا ہوا ہے. فوری طور پر اس بم دھماکے سے ہونے والے جانی نقصان کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا.

افغان پولیس نے اس خودکش بم حملے کی تصدیق کی ہے.کابل میں امریکی اور نیٹو کی قیادت میں فورسز کے ترجمان سارجنٹ فرسٹ کلاس کیون بیل نے بتایا ہے کہ بم دھماکا ائیرپورٹ کے قریب واقع کیمپ فونیکس میں ہوا ہے.یہ بیس امریکی فوجیوں کے زیر استعمال ہے اور یہاں نیٹو کے اتحادی ممالک کے بعض فوجی بھی تعینات ہیں.

جنگ زدہ افغانستان میں رواں سال تشدد کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور اب تک سیکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں.گذشتہ آٹھ سال سے جاری موجودہ جنگ کے دوران یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ طالبان نے حالیہ مہینوں میں نسبتاً محفوظ سمجھے جانے والے دارالحکومت کابل میں امریکی، نیٹو اور افغان فورسز پر متعدد حملے کئے ہیں.