پرِنٹ کیجئے
بھیجئے
Bookmark and Share
مشاركة
جمعه 25 ذو القعدة 1430هـ - 13 نومبر 2009م

نیتن یاہو خطے میں امن کے لئے آمادہ نہیں: بشار الاسد

فرانسیسی صدر نکولا سرکوزی اپنے شامی ہم منصب بشار الاسد کا استقبال کر رہے ہیں.
فرانسیسی صدر نکولا سرکوزی اپنے شامی ہم منصب بشار الاسد کا استقبال کر رہے ہیں.
 

پیرس.العربیہ

شام کے صدر بشار الاسد نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی جانب سے بات چیت کی پیش کش کو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ کوئی بھی ''اسرائیلی پارٹنر''مشرق وسطیٰ میں امن عمل کو آگے بڑھانے کے لئے تیار نہیں ہے.

وہ پیرس میں فرانسیسی صدر نکولا سرکوزی سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے. بشار الاسد نے انتہا پسند اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے بارے میں کہا کہ وہ امن کو آگے بڑھانے کے لئے سنجیدہ نہیں.انہوں نے کہا کہ وہ اسرائیلی وزیر اعظم سے بالمشافہ مذاکرات کے لئے تیار نہیں اور وہ ترکی کی ثالثی میں دونوں ممالک کے درمیان نچلی سطح پر مذاکرات کے حق میں ہیں.

بشار الاسد کا کہنا تھا کہ ''اگر مسٹر نیتن یاہو سنجیدہ اور دلچسپی رکھتے ہیں تو وہ ترکی میں ماہرین کی ایک ٹیم بھیج سکتے ہیں اور ہم بھی ماہرین کی ٹیم بھیج دیں گے پھر ہی ہم حقیقی معنوں میں کوئی بات چیت کر سکتے ہیں''.

بشار الاسد نے کہا کہ ''آج شام امن چاہتا ہے، ترکی اس وقت ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے اور وہ اپنی ثالثی کی کوششوں کی بحالی کے لئے تیارہے جبکہ اس عمل کو فرانس اور یورپ کی حمایت بھی حاصل ہے لیکن ہمیں ایک ایسے اسرائیلی پارٹنر کی تلاش ہے جو آگے بڑھے اور کسی نتیجہ کی جانب پیش رفت کے لئے تیار ہو''.

اسرائیلی وزیر اعظم نے بدھ کے روز نکولا سرکوزی سے پیرس میں ملاقات کی تھی جس کے بعد ایک اسرائیلی عہدے دار نے کہا تھا کہ ''نیتن یاہو امن مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لئے کسی بھی پیشگی شرائط کے بغیر کسی بھی وقت اور کسی بھی جگہ بشار الاسد سے ملاقات کو تیار ہیں''.

تاہم شام ایک طویل عرصہ سے اسرائیل کے ساتھ بات چیت کے لئے صرف ایک شرط عاید کرتا چلا آ رہا ہے کہ وہ اس کے علاقے گولان کی پہاڑیوں کو واپس کرے جن پر اس نے 1967ء کی جنگ میں قبضہ کیا تھا اور 1981ء میں اس علاقے کو اپنی ریاست میں ضم کر لیا تھا.

واپس اوپر
مضمون پر نقطہء نظر
 تبصرہ کیجئے

نام: 

موضوع: 

مندرجات: