جمعرات 12 ربيع الثاني 1432هـ - 17 مارچ 2011م
آخری وقت اشاعت: بدھ 26 ذی القعدہ 1431هـ - 03 نومبر 2010م KSA 13:04 - GMT 10:04

کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے بم حملے کی ذمہ داری قبول کر لی

پشاور میں ایک اور خود کش کار بم دھماکا، 11 افراد جاں بحق

ہفتہ 26 ذی القعدہ 1430هـ - 14 نومبر 2009م
پشاور کے نواحی علاقے میں خود کش کار بم حملے میں دو پولیس اہلکار، تین خواتین اور تین بچے بھی جاں بحق ہوئے ہیں.
پشاور کے نواحی علاقے میں خود کش کار بم حملے میں دو پولیس اہلکار، تین خواتین اور تین بچے بھی جاں بحق ہوئے ہیں.
پشاور.العربیہ.ایجنسیاں

پاکستان کے شمال مغربی سرحدی صوبہ کے دارالحکومت پشاور میں پولیس کے ایک چیک پوائنٹ پر خود کش کار بم دھماکے کے نتیجے میں تین بچوں سمیت گیارہ افراد جاں بحق اور چھبیس زخمی ہو گئے ہیں.

پشاور میں گذشتہ روز پاک فوج کے خفیہ ادارے انٹر سروسز انٹیلی جنس کے علاقائی دفاتر کو نشانہ بنایا گیا تھا جن میں دس افراد جاں بحق ہو گئے تھے.اس بم حملے کے بعد شہر میں سکیورٹی مزید سخت کردی گئی ہے اور شہر کے داخلی راستوں پر قائم کی گئی پولیس چیک پوسٹوں پر تمام گاڑیوں کو روک کرچیک کیا جا رہا ہے.

اطلاعات کے مطابق خود کش کار بم دھماکا ہفتے کی سہ پہر سوا چار بجے پشاور کےپشتہ خرہ چوک میں اس وقت ہوا جب پولیس اہلکاروں نے رنگ روڈ سے گزرنے والی ایک مشکوک گاڑی کو روک کر اس کی تلاشی لینے کی کوشش کی.دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی۔ دھماکے میں پانچ گاڑیاں مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہیں اور متعدد کو جزوی نقصان پہنچا ہے.

پشاور کے ضلعی رابطہ افسر ڈی سی او صاحبزادہ انیس نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خود کش بم دھماکے میں گیارہ افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے جن میں تین خواتین،تین بچے اور پانچ مرد جاں بحق ہوئے ہیں.

بم حملے کا نشانہ بننے والی پولیس چیک پوسٹ پر تعینات ایک پولیس ہلکار ملک جہانگیر نے بتایا ہے کہ ''گاڑیوں کی ایک لمبی قطار لگی ہوئی تھی اور ہم انہیں چیک کر رہے تھے کہ اس دوران اچانک بارود سے ایک کار پھٹنے سے زوردار دھماکا ہو گیا''.انہوں نے بتایا کہ ایک اہلکار کار کو چیک کرنے ہی والا تھا کہ وہ دھماکے سے پھٹ گئی.

ملک جہانگیر نے بم دھماکے میں دس افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے جن میں دوپ ولیس اہلکار بھی شامل ہیں.بم دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کو پشاور کے لیڈی ریڈنگ اسپتال اور خیبر ٹیچنگ اسپتال میں منتقل کر دیا گیا ہے.اسپتال ذرائع کے مطابق بعض زخمیوں کی حالت نازک ہے جس کی وجہ سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے.

گذشتہ ایک ہفتے کے دوران پشاور اور اس کے نواحی علاقوں میں یہ چوتھا بم دھماکا ہے.ان بم دھماکوں میں پچاس سے زیادہ افراد جاں بحق ہو چکے ہیں.گذشتہ ماہ پشاور کےایک مصروف علاقے پیپل منڈی میں واقع مینا بازار میں کار بم دھماکے میں ایک سو سے زیادہ افراد جاں بحق ہو گئے تھے جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے تھے اور یہ پشاور میں گذشتہ دو سال میں سب سے تباہ کن بم دھماکا تھا.

کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے پشاور میں بم حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے اور دھمکی دی ہے کہ جنوبی وزیرستان میں جاری فوجی کارروائی کے جواب میں مزید خود کش حملے کئے جائیں گے. طالبان جنگجوٶں کے ترجمان اعظم طارق نے ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے سے ٹیلی فون پربات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''ہم آئی ایس آئی کے دفاتر اور بنوں میں گذشتہ روز بم دھماکوں اور آج پشاور میں پولیس کی چیک پوسٹ پر خود کش حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں''.

طالبان جنگجوٶں نے جنوبی وزیرستان اور دوسرے قبائلی علاقوں میں پاک فوج کی کارروائیوں کے ردعمل میں سکیورٹی فورسز اور عام شہریوں پر بم حملوں کا سلسلہ بھی تیز کر دیا ہے اور انہوں نے گذشتہ چار ہفتوں کے دوران فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے علاوہ پاکستان کے مختلف شہروں میں متعدد بم دھماکے اور حملے کئے ہیں جن میں کم سے کم چار سو شہری جاں بحق ہو چکے ہیں.