عراق: کرد فورسز نے القاعدہ کے مبینہ رکن کو گرفتار کر لیا
مشتبہ شخص عراقی اور امریکی سکیورٹی فورسز کو مطلوب تھا
عراق کے شمالی علاقے کردستان کی سکیورٹی سروسز کا کہنا ہے کہ انہوں نے امریکی فوج کے ساتھ ایک مشترکہ کارروائی کے دوران بم حملوں میں ملوث القاعدہ کے ایک اہم رکن کو گرفتار کر لیا ہے.
کرد حکام کی جانب سے ہفتہ کے روز جاری کردہ بیان میں گرفتار کئے گئے مشتبہ شخص کا نام مثنیٰ ہانی نصر بتایا گیا ہے. بیان کے مطابق وہ عراق کے سابق صدر صدام حسین کی جماعت بعث پارٹی کے ایک سرکردہ کارکن رہے تھے.
کرد انٹیلی جنس کے مطابق چھتیس سالہ نصر کا تعلق عراق کے مغربی صوبہ الانبار کے دارالحکومت رمادی سے ہے اور انہیں گذشتہ ہفتے سلیمانیہ شہر میں کرد فورسز اور امریکی فوج کی ایک مشترکہ کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا تھا.
سلیمانیہ کے سکیورٹی حکام نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''گرفتار دہشت گرد رمادی میں عراقی سکیورٹی فورسز اور امریکی فوج کو مطلوب تھا. وہ سلیمانیہ میں ایک مقامی کمپنی کے ساتھ کام کرنے کی غرض سے آیا تھا لیکن اس کا مقصد دہشت گردی کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کرنا تھا''.
بیان کے مطابق مشتبہ شخص کی گرفتاری کے وقت ملنے والی دستاویزات سے اس کے دہشت گردی کے حملوں میں ملوث ہونے کا پتا چلتا ہے. مثنیٰ کی گرفتاری کے لئے سکیورٹی آپریشن 8 اور 9 نومبر کی درمیانی شب کیا گیا تھا اور اس کے لئے امریکی مشیروں کی حمایت بھی حاصل تھی.
امریکی فوج نے اپنے ایک الگ بیان میں کہا ہے کہ ''گرفتار شخص شمالی عراق میں بڑے بم حملوں میں ملوث تھا. اس پر سابق حکمران بعث پارٹی کا ایک سرکردہ کارکن ہونے کا شبہ ہے اور وہ دہشت گروپ القاعدہ کی بھی ایک نمایاں شخصیت تھا''.بیان کے مطابق اس شخص کا پورے شمالی عراق میں ہوئے بڑے بم حملوں سے تعلق تھا اور وہ دہشت گردی کی کارروائیوں کے لئے مالی بندوبست کیا کرتا تھا.''