جمعرات 12 ربيع الثاني 1432هـ - 17 مارچ 2011م
آخری وقت اشاعت: بدھ 26 ذی القعدہ 1431هـ - 03 نومبر 2010م KSA 13:04 - GMT 10:04

اسرائیلی میڈیا غزہ پر نئے حملے کی زمین ہموار کر رہا ہے

نئے میزائل تجربے کے بارے میں خبریں پروپیگنڈا ہیں: حماس

اتوار 27 ذی القعدہ 1430هـ - 15 نومبر 2009م
حماس نے نئے میزائل تجربے کے بارے میں خبروں کی سختی سے تردید کی ہے: فائل
حماس نے نئے میزائل تجربے کے بارے میں خبروں کی سختی سے تردید کی ہے: فائل
دبئی - العربية، ایجنسیاں

اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) سیاسی شعبے کے رکن عزت الرشق نے اسرائیلی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں دعوی کیا گیا ہے کہ حماس نے ایک نئے دورمار میزائل کا تجربہ کیا ہے جو صہیونی دارلحکومت تل ابیب کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

حماس کے رہ نما نے کہا کہ ایسی من گھرٹ اور بے بنیاد خبروں کی اشاعت دراصل تنظیم کے خلاف اشتعال پیدا کرنے کے لئے شائع کرائی جاتی ہیں۔ ان کا مقصد غزہ پر نئےحملے کے لئے ماحول تیار کرنا ہے۔

یاد رہے کہ دو روز قبل اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل گابی اشکینازی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ غزہ پر اسرائیلی حملے کے بعد سے حماس نے صہیونی ریاست پر راکٹ باری بند کر دی ہے۔ ان کا دعوی تھا کہ غزہ میں سرگرم دوسری مزاحمتی تنظیموں کی اسرائیل پر راکٹ باری کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم بھی حماس کے پاس ہے۔

اسرائیلی جنرل کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے کہ جب تل ابیب اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے لئے بلواسطہ مذاکرات جرمنی اور مصر کی میزبانی میں ہو رہے ہیں۔

اس کے ساتھ ہی مصر "فتح" اور "حماس" کے درمیان اختلافات حل کرانے کے لئے بھی ثالثی کر رہا ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس حماس پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ اسرائیل کو اشتعال دلا کر اپنے زیر کنٹرول علاقے غزہ میں شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالتا ہے۔

حماس اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتی، اس کے بعض عہدیدار اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ ان کی تنظیم نے تل ابیب پر راکٹ باری میں اس لئے توقف کیا ہے تاکہ اس دوران وہ اپنی تمام تر صلاحیت اور توانائیاں غزہ کی پٹی میں اپنے تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے کو تعمیر کرنے پر مرکوز کر سکے۔

فلسطینی مزاحتمی تنظیم اسلامی جہاد اور دوسری مزاحمتی تنظیموں نے الزام عائد کیا ہے کہ حماس نے اسرائیل پر راکٹ داغنے والے ان تنظیموں کے کارکنوں کو گرفتار کیا ہے۔

صہیونی فوج کی خاتون ترجمان نے بتایا کہ فلسطینیوں نے گذشتہ جمعے کو شمالی غزہ سے اسرائیل پر راکٹ فائر کیا تاہم اس حملے میں کسی قسم کا نقصان نہیں ہوا۔