سعودی اور یمنی فورسز نے دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر واقع شیعہ باغیوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے جبکہ باغیوں نے سعودی عرب کے جنوبی شہر جازان میں ایک فوجی اڈے پر کاتیوشا راکٹوں سے حملہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے.
ایک عینی شاہد نے فرانسیسی خبررساں ادارے کو بتایا ہے کہ سعودی عرب کے جنگی جہازوں نے ہفتہ کی رات سرحدی علاقے میں باغیوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی. اتوار کی صبح قدرے خاموشی دیکھی گئی لیکن اس کے بعد سے سرحدی علاقے میں فضائی حملے جاری ہیں.
درایں اثناء حوثی باغیوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انہوںنے سعودی عرب کی جانب سے فضائی حملوں کے جواب میں اس کے عین الحارہ کے فوجی اڈے پرکاتیوشا راکٹوں سے حملہ کیا ہے اور کیمپ میں حملے کے بعد آگ دیکھی جاسکتی تھی.
العربیہ کے نمائندے کے مطابق جازان کے علاقے میں گذشتہ دوروزکے دوران مزید فوج بھیجی گئی ہے اورسرحدپرشیعہ باغیوں کے ٹھکانوں کے قریب واقع علاقے خوبہ میں مزید کمک پہنچائی گئی ہے.
سعودی فورسز دونوں ممالک کے درمیان واقع سرحدی پہاڑی علاقے جبل الدخان میں 4نومبر سے شیعہ باغیوں کے ٹھکانوں پربمباری کررہی ہیں.یمن کے حوثی باغیوں کے خلاف کارروائی ان کی جانب سے 3نومبر کو سعودی عرب کے سرحدی محافظوں پرحملے کے ایک روز بعد شروع کی گئی تھی.اس واقعہ میں ایک سعودی اہلکار جاں اور گیارہ زخمی ہوگئے تھے.
سعودی عرب کا کہنا ہے کہ جب تک شیعہ باغی سرحدی علاقے سے کئی کلومیٹر تک پیچھے نہیں ہٹ جاتے اس وقت تک ان پر فضائی حملے اور گولہ باری جاری رکھی جائے گی.