جوہری توانائی کے عالمی ادارے آئی اے ای اے نے ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں سوموار کو ایک نئی رپورٹ جاری کی ہے جس میں اس نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے ماضی میں خفیہ رکھی گئی جوہری تنصیب کے بارے میں مزید وضاحتوں کی ضرورت ہے.ادارے نے اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے کہ ایران کی اور بھی خفیہ جوہری تنصیبات ہو سکتی ہیں.
آئی اے ای اے نے اپنی نئی رپورٹ میں کہا ہے کہ قم کے قریب تعمیر کیا جانے والا نیا پلانٹ ایران کی جانب سے فراہم کردہ ڈیزائن کی معلومات کے مطابق ہے لیکن ایران کو اس تنصیب کی تعمیر کے مقصد اور اس کے ڈیزائن کی تفصیل سے متعلق مزید وضاحت پیش کرنے کی ضرورت ہے.
ایران نے ستمبر میں آئی اے ای اے کو بتایا تھا کہ وہ قم شہر کے قریب ایک پہاڑ میں یورینیم افزودگی کا دوسرا پلانٹ تعمیر کر رہا ہے.اس انکشاف پر مغربی ممالک نے ایران کے خلاف بہت شور و غوغا کیا ہے اور ان کا یہ کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے یورینیم کو افزودہ کرنے کا اصل مقصد جوہری ہتھیار تیار کرنا ہے.
ایران اس سے پہلے وسطی شہر نطنز میں واقع جوہری پلانٹ میں یورینیم کو افزودہ کر رہا ہے اور یہ سلسلہ ختم نہ کرنے کی وجہ سے اسے اقوام متحدہ کی تین مراحل میں لگائی گئی پابندیوں کا سامنا ہے جبکہ امریکا اس پر یورینیم افزودگی کا عمل ترک نہ کرنے کی صورت میں مزید پابندیاں لگانے کا مطالبہ کر رہا ہے.
آئی اے ای اے کی اس کے اسلحہ انسپکٹروں کے گذشتہ ماہ ایران کے دورہ میں قم کے قریب واقع زیر تعمیر جوہری تنصیب کے معائنے کے بعد یہ پہلی رپورٹ ہے. ادارے کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے اس تنصیب کے بارے میں تاخیر سے انکشاف سے اعتماد کی بحالی میں کوئی مدد نہیں ملی.
آئی اے ای اے نےاپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ اس نے ایران کی نئی جوہری تنصیب کی بعض سیٹلائٹ تصاویر حاصل کی ہیں جن سے یہ پتا چلتا ہے کہ وہاں 2002ء اور 2004ء کے درمیان کچھ تعمیراتی کام ہوا تھا اور 2006ء میں تعمیراتی سرگرمیاں دوبارہ شروع کی گئی تھیں جو اب تک جاری ہیں.