جمعرات 12 ربيع الثاني 1432هـ - 17 مارچ 2011م
آخری وقت اشاعت: بدھ 26 ذی القعدہ 1431هـ - 03 نومبر 2010م KSA 13:06 - GMT 10:06

'' امن عمل بحال نہ ہوا تو انتہا پسندوں کے خطرے کا سامنا ہوسکتا ہے''

فرانسیسی صدرکامشرق وسطیٰ امن عمل بحال کرنے پر اصرار

منگل 29 ذی القعدہ 1430هـ - 17 نومبر 2009م
سعودی عرب کے شاہ عبداللہ اور فرانسیسی صدر نکولا سرکوزی کی ایک فائل تصویر.
سعودی عرب کے شاہ عبداللہ اور فرانسیسی صدر نکولا سرکوزی کی ایک فائل تصویر.
ریاض.ایجنسیاں

فرانسیسی صدر نکولا سرکوزی نے اسرائیل اور فلسطینیوں پر زوردیا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ کا امن عمل بحال کریں،دوسری صورت میں انہیں انتہا پسندوں کے خطرات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے.

سعودی عرب کے دوروزہ دورے سے قبل فرانسیسی صدر نے منگل کو ایک سعودی روزنامے میں شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ''جتنا جلد ممکن ہو،امن کا عمل دوبارہ شروع کرنا ہماری ترجیح ہونی چاہئے''.

فرانسیسی صدر نے کہا کہ ''امن کا عمل شروع کرنا ایک فوری نوعیت کا معاملہ ہے کیونکہ موجودہ تعطل سے انتہا پسندوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ امن کے امکانات بھی معدوم ہوتے جارہے ہیں''.

فرانسیسی صدر نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ ''یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم امن مذاکرات شروع کرنے کے لئے فریقین کی مدد کریں''.وہ امریکا،یورپی یونین اور روس کا حوالہ دے رہے تھے.گذشتہ ہفتے اسرائیلی وزیراعظم اور فلسطینی صدرسے بات چیت کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی تعمیرمنجمد کردیں اور فلسطینی صدرمحمود عباس سے کہا ہے کہ وہ 2010ء میں فلسطینی علاقوں میں انتخابات کے انعقاد کے لئے پرعزم رہیں.

نکولا سرکوزی نے گذشتہ ہفتے شامی صدر بشارالاسد سے بھی ملاقات کی ہے اور انہوں نے اسرائیل اور شام کی جانب سے بالواسطہ مذاکرات کے لئے آمادگی کا خیرمقدم کیا ہے.دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ سال غزہ جنگ کے بعد ترکی کی ثالثی میں جاری مذاکرات منقطع ہوگئے تھے.

فرانسیسی صدر کا کہنا تھا کہ شام اور اسرائیل نے مذاکرات بحال کرنے پراپنی آمادگی کا اظہار کیا ہے اور فرانس دونوں ممالک کے درمیان یہ بات چیت دوبارہ شروع کرنے کے لئے مدد دینے کو تیار ہے.