جمعرات 12 ربيع الثاني 1432هـ - 17 مارچ 2011م
آخری وقت اشاعت: بدھ 26 ذی القعدہ 1431هـ - 03 نومبر 2010م KSA 13:06 - GMT 10:06

فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے سے متعلق کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا:یورپی یونین

اسرائیل:مقبوضہ بیت المقدس میں 900مکانوں کی تعمیرکی منظوری

منگل 29 ذی القعدہ 1430هـ - 17 نومبر 2009م
فلسطینی قیادت کا کہنا ہے کہ وہ امن مذاکرات کا کوئی نتیجہ نہ نکلنے کی وجہ سے مایوسی کا شکار ہے اوراقوام متحدہ ان کی آزاد فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے.
فلسطینی قیادت کا کہنا ہے کہ وہ امن مذاکرات کا کوئی نتیجہ نہ نکلنے کی وجہ سے مایوسی کا شکار ہے اوراقوام متحدہ ان کی آزاد فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے.
برسلز،مقبوضہ بیت المقدس.العربیہ،ایجنسیاں

اسرائیل نے مقبوضہ بیت المقدس میں غیر قانونی طور پر قبضہ میں لی گئی فلسطینیوں کی اراضی پر یہودی تعمیرات روکنے کے لئے امریکا کے مطالبہ کو مسترد کرتے ہوئے شہرمیں یہودیوں کے لئے مزید نوسو نئے مکانوں کی تعمیر کی منظوری دے دی ہے .

منگل کو اسرائیلی پریس نے اطلاع دی ہے کہ وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو مقبوضہ مشرقی بیت المقدس میں قبضہ میں لی گئی اراضی پرغیر قانونی طور پر نئی تعمیرات کے حوالے سے کوئی لچک دکھانے کو تیار نہیں اور انہوں نے امریکا کی جانب سے یہودی بستیوں کی تعمیر منجمد کرنے کے مطالبے کو یکسر نظرانداز کردیا ہے.

رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ کے بارے میں امریکی صدر براک اوباما کے خصوصی نمائندے جارج میچل نے انتہا پسند اسرائیلی وزیراعظم سے غیلو کےعلاقے میں یہودیوں کے لئے مکانوں کی تعمیر کے ایک منصوبہ پرکام روکنے کا مطالبہ کیا تھا اوران کا کہنا تھا کہ اس سے اسرائیل کی فلسطینیوں کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہوسکتا ہے.

اسرائیلی وزیراعظم نے امریکی مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ زیرتعمیر منصوبے کی حکومت سے منظوری کی ضرورت نہیں اورغیلو مقبوضہ بیت المقدس ہی کا حصہ ہے.

جب ایک اسرائیلی عہدے دار سے اس رپورٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے کہا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ مغربی کنارے میں واقع دو یہودی بستیوں جودائعا اور سمیریا کے معاملے پرتونیتن یاہولچک دکھانے کو تیار ہیں.لیکن اس پالیسی کا مقبوضہ بیت المقدس پر اطلاق نہیں ہوتا کیونکہ وہ ہمارا دارالحکومت ہے.امریکا کی جانب سے فوری طور پر اس رپورٹ پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا.

غیلوکا علاقہ مشرقی بیت المقدس میں واقع ہے.اس پر اسرائیل نے 1967ء کی جنگ کے دوران قبضہ کیا تھا اور بعد میں غیر قانونی طور پراسے اپنی ریاست میں ضم کرلیا تھا لیکن عالمی برادری نے اسرائیل کے اس اقدام کو تسلیم نہیں کیا.

اب اسرائیل پورے مقبوضہ بیت المقدس کو اپنے دائمی اور مستقل دارالحکومت کے طورپر پیش کررہا ہے جبکہ فلسطینی القدس الشریف کے مشرقی حصے کو اپنی مستقبل میں قائم ہونے والی ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں.

درایں اثناء منگل ہی کو یورپی یونین کے موجودہ صدر ملک سویڈن نے کہا ہے کہ ایک آزاد فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے سے متعلق کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا.

سویڈن کے وزیر خارجہ کارل بلڈٹ نے برسلزمیں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:''میرا نہیں خیال کہ ہم ابھی اس مقام پر پہنچے ہیں کہ ایک آزاد فلسطینی ریاست کو تسلیم کرلیا جائے''.

سویڈش وزیرخارجہ نے کہا کہ ''مجھے توقع ہے کہ ہم اس وقت ایک آزاد فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی پوزیشن میں ہوں گے جب یہ ریاست قائم ہوجائے گی اس لئے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی باتیں قبل ازوقت ہیں''.