بیجنگ.ایجنسیاں
امریکا اور چین نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ اگر ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے کھلے پن کے بارے میں مزاحمت کی تو اسے اس کے نتائج بھگتنا پڑیں گے.
امریکی صدربراک اوباما نے بیجنگ میں چینی صدر خوچن تھاٶ سے بات چیت کے بعد مشترکہ نیوزکانفرنس میں کہا کہ ''انہوں نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ ایران کو اپنے جوہری پروگرام کے پرامن اور شفاف ہونے کے بارے میں عالمی برادری کو یقین دہانیاں کرانی چاہئیں''.
اوباما نے کہا ''ایران کے پاس ایک موقع ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کے پرامن ہونے کا عملی ثبوت مہیا کرے لیکن اگر وہ اس موقع سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہتا ہے تو پھر اسے نتائج بھگتنا ہوں گے''.
چین اور امریکا ان چھے بڑی طاقتوں میں شامل ہیں جو ایران کے جوہری پروگرام کا مسئلہ بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں لیکن امریکا ساتھ ساتھ ایران پر مزید پابندیاں عاید کرنے کی دھمکیاں بھی دے رہا ہے.
 |
امریکا چین تعاون چین اور امریکا نے موسمیاتی تبدیلیوں سے لے کر شمالی کوریا کے جوہری تنازعے تک ایک دوسرے سے تعاون کرنے پراتفاق کیا ہے جبکہ امریکی صدر براک اوباما نے چین کے ساتھ جامع دوطرفہ تعلقات کے عزم کا اظہار کیا ہے.
براک اوباما اور ان کے چینی ہم منصب خوچن تھاٶ نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان موجودتجارتی عدم توازن سے متعلق مسائل کو حل کرنے کے لئے بھی مل جل کر کام کیا جائے گا.
میڈیا سے بات چیت کے دوران براک اوباما نے کہا کہ دونوں ممالک نے آئندہ ماہ ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں اقوام متحدہ کے زیراہتمام ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق عالمی کانفرنس کو کامیاب بنانےسے بھی اتفاق کیا ہے.
دوطرفہ تجارت کے حوالے سے چینی صدرخوچن تھاٶ نے کہا کہ وہ دوطرفہ اقتصادی اورتجارتی مسائل کو برابری کی بنیاد پرحل کرنے کے لئے مشاورت کا سلسلہ جاری رکھیں گے.واضح رہے کہ امریکا نے حالیہ مہینوں کے دوران چینی ٹائروں اور اسٹیل کی بعض مصنوعات کی درآمد پرٹیکس اورڈیوٹیاں عاید کی ہیں جس کے جواب میں چین نے بھی امریکی کاروں اور مرغی کے گوشت کی درآمد پربعض قدغنیں لگائی ہیں.
امریکی صدر نے صحافیوں سے بات چیت میں چین کے لئے ایک حساس ایشو تبت پر بھی اظہار خیال کیا اور کہا کہ امریکا اس علاقے پر چین کی خود مختاری کو تسلیم کرتا ہے اور اسے توقع ہے کہ دلائی لامہ کے نمائندوں اور بیجنگ کے درمیان اس معاملے پر بہت جلد بات چیت بحال ہوگی. |
