جمعرات 12 ربيع الثاني 1432هـ - 17 مارچ 2011م
آخری وقت اشاعت: بدھ 26 ذی القعدہ 1431هـ - 03 نومبر 2010م KSA 13:06 - GMT 10:06

پاکستان بدعنوان ممالک میں بیالیسویں، بھارت پچانوے نمبر پر

جنگ زدہ صومالیہ، افغانستان اور میانمر بدعنوانیوں میں سرفہرست

منگل 29 ذی القعدہ 1430هـ - 17 نومبر 2009م
ٹرانسپیرینسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں سب سے کم کرپشن نیوزی لینڈ میں ہوتی ہے.
ٹرانسپیرینسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں سب سے کم کرپشن نیوزی لینڈ میں ہوتی ہے.
برلن.العربیہ.ایجنسیاں

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے دنیا کے بدعنوان ممالک کی نئی فہرست جاری کئی ہے جس کے مطابق خانہ جنگی اور لاقانونیت کا شکار صومالیہ کرپشن میں پہلے، جنگ زدہ افغانستان دوسرے اور میانمر تیسرے نمبر پر ہے۔ فہرست میں پاکستان کا نمبر بیالیسواں جب کہ بھارت کا پچانواں ہے۔

برلن میں عالمی نگران ادارے کی منگل کو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں سب سے کم کرپشن نیوزی لینڈ میں ہوتی ہے. اس لحاظ سے دوسرے نمبر پر ڈنمارک اور تیسرے نمبر پر سنگاپور ہے جہاں کرپشن کی شرح انتہائی کم ہے ۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ شرح ان ممالک میں سیاسی استحکام ، تنازعات کی کمی اور عوامی اداروں کی مضبوطی کو ظاہر کرتی ہے۔

۔ایک سو اسی ممالک کی فہرست میں پاکستان بدعنوانیوں میں پانچ درجے ترقی کر کے اب بیالیسویں نمبر پر آ گیا ہے ۔ سال 2008 ء میں بدعنوان ممالک کی فہرست میں پاکستان سینتالیسویں نمبر پر تھا۔

پاکستان میں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے چئیرمین سید عادل گیلانی کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے نتیجے میں نہ صرف غربت بلکہ کرپشن بھی بڑھتی ہے ۔ان کا کہناہے کہ پاکستان میں 1951ء سے 2007 کے دوران قانونی اور غیر قانونی طریقے سے فوجی حکومتوں کا اقتدار اور طاقت کا غلط استعمال بھی کرپشن میں اضافے کا سبب بنا ہے .

نئی رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش، بیلارس، گوئٹے مالا، لیتھوانیا، پولینڈ اور شام ایسے ممالک ہیں جنہوں نے بدعنوانیوں کے خاتمے کے لئے اقدامات کئے ہیں اور شفاف ممالک میں ان کی ریٹنگ بھی بہتر ہوئی ہے.رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش سابق نگران حکومت کے بدعنوانیوں کے خاتمے کے لئے اقدامات کے نتیجے میں نئی فہرست میں اڑتیسویں نمبر پر آ گیا ہے.

فہرست میں امریکا کا نمبر انیسواں ہے جبکہ گذشتہ سال وہ اٹھارویں نمبر پر تھا. رپورٹ کے مطابق امریکی قانون ساز ادارہ تشویش کی ایک بڑی وجہ ہے کیونکہ اس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ادارہ کرپشن سے سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے.

ٹرانسپیرینسی انٹرنیشنل کے بدعنوانیوں سے متعلق سالانہ اشاریے کے مطابق جنگ زدہ افغانستان اور عراق کو گذشتہ برس اربوں ڈالرز بین الاقوامی امداد کی شکل میں ملے لیکن اسی حساب سے ان ممالک میں بدعنوانیوں کی شرح میں بھی اضافہ ہوا.

افغانستان نے بدعنوانیوں میں ایک سال میں تین درجے کی ترقی کی ہے اور بدعنوان ترین ممالک میں اس کا نمبر ایک سو اناسیواں یعنی دوسرا ہے. گذشتہ سال وہ ایک سو چھہترویں نمبر پر یعنی پانچویں نمبر پر تھا. ٹرانسپیرینسی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ افغانستان کے سرکاری اداروں میں کرپشن عروج پر ہے اور وہاں سرکاری نوکریاں اور عدالتوں میں انصاف روزانہ ہی بکتا ہے.

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جو ممالک سب سے زیادہ بدعنوان قرار پائے ہیں، وہ دراصل ایک طویل عرصہ سے خانہ جنگی اور تنازعات کا شکار ہیں جس کی وجہ سے ان کے ہاں نظم ونسق کا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو کر رہ گیا ہے اور ان کے ادارے کمزور ہوئے ہیں.

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی خاتون چئیرمین ہوگیٹ لابیلے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''کرپشن پر قابو پانے کے لئے پارلیمان کی مضبوط نگرانی، فعال عدلیہ، بدعنوانیوں کے انسداد کے لئےاداروں، قانون نافذ کرنے والے مستعد اداروں اور آزاد میڈیا اور توانا معاشرے کی موجودگی ناگزیر ہوتی ہے''.انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو جنگ زدہ ممالک کو اپنے ہاں بہتر اداروں کے قیام کے لئے مدد کرنی چاہئے.