ڈبلیو ٹی او کے سربراہ کا دوحہ عمل کو آگے بڑھانے کا مطالبہ
رکن ممالک کے درمیان اختلافات کی وجہ سے حتمی معاہدہ تاخیر کا شکار
عالمی تجارتی تنظیم ڈبلیو ٹی او کے سربراہ پاسکل لامی نے خبردار کیا ہے کہ تنظیم کے رکن ممالک کو آئندہ سال کے دوران عالمی تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لئے سنجیدہ پیش رفت کرنے کی ضرورت ہے.
جنیوا میں ڈبلیو ٹی او کے ارکان ایک سو تریپن ممالک کے مندوبین سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر ہم دوحہ راٶنڈ کو 2010ء تک مکمل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں مختلف امور کو جلد طے کرنے کی ضرورت ہے.
عالمی تجارت کو آزاد بنانے کے لئے معاہدے کو حتمی شکل دینے کی غرض سے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں 2001ء میں مذاکرات کا آغاز ہوا تھا لیکن ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان اختلافات کی وجہ سے اس معاہدے کو ابھی تک حتمی شکل نہیں دی جا سکی.
عالمی رہ نما متعدد مرتبہ تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے اعلانات اور تاریخیں بھی مقرر کر چکے ہیں لیکن ماضی میں ہر مرتبہ وہ مقررہ ڈیڈلائن تک مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکے.
پاسکل لامی کا کہنا تھا کہ ڈبلیو ٹی او کا آئندہ وزارتی اجلاس رکن ممالک کے لئے دوحہ مذاکراتی عمل کو حتمی شکل دینے کا ایک بہترین موقع ہو گا اور یہ کہ اس اجلاس کے موقع پر ڈبلیو ٹی او تمام معاہدے کے بارے میں مضبوط اشارے دئیے جائیں.
ڈبلیو ٹی او کا وزارتی اجلاس 30 نومبر اور 2 دسمبر کے درمیان ہو گا. تنظیم کے رکن ممالک نے اس اجلاس سے پہلے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ اس کے دوران دوحہ راٶنڈ سے متعلق مذاکراتی سیشنز نہیں ہوں گے.