جمعرات 12 ربيع الثاني 1432هـ - 17 مارچ 2011م
آخری وقت اشاعت: بدھ 26 ذی القعدہ 1431هـ - 03 نومبر 2010م KSA 13:06 - GMT 10:06

عازمین حج میں ایچ1 این1 وائرس کی نگرانی کے لئے اقدامات میں اضافہ

سعودی عرب: حج کا رکن اعظم وقوف عرفہ 26 نومبر کو ہو گا

بدھ 01 ذی الحجہ 1430هـ - 18 نومبر 2009م
دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان فریضہ حج ادا کرنے کے لئے مکة المکرمہ پہنچے ہیں.فائل
دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان فریضہ حج ادا کرنے کے لئے مکة المکرمہ پہنچے ہیں.فائل
ریاض.العربیہ

سعودی عرب میں منگل کی شام ذی الحجہ کا چاند نظر آ گیا ہے اور سعودی سپریم کورٹ نے اعلان کیا ہے کہ حج کا رکن اعظم وقوف عرفات 26 نومبر 09 کو ہو گا اور عید الاضحیٰ 27 نومبر کو منائی جائے گی.

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالرحمان الکلیا نے منگل کی شام سرکاری ٹیلی ویژن پر اعلان کیا کہ بہت سے لوگوں نے ذی الحجہ کا چاند دیکھنے کی گواہی دی ہے اور 18 نومبر بدھ کو ذی الحجہ کی پہلی تاریخ ہے.

سوائن فلو وائرس کے تیزی سے پھیلنے کے خطرات کے باوجود دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان فریضہ حج کی ادائی کے لئے مکة المکرمہ پہنچ چکے ہیں اور مزید کی آمد کا سلسلہ جاری ہے. حج کے موقع پر مکة المکرمہ مسلمانوں کا سب سے بڑا اجتماع ہوتا ہے اور یہ مسلمانوں کے رنگ ونسل اور علاقائی بندشوں سے ماورا اتحاد کا سب سے بڑا مظاہرہ ہوتا ہے.

حج اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک ہے اور یہ ہر صاحب استطاعت مسلمان پر زندگی میں ایک مرتبہ فرض ہے.حج مسلمانوں کے اللہ کے آگے جھکنے اور ان کی یک جہتی اور یگانگت کا بھی سب سے بڑا مظاہرہ ہوتا ہے اور مختلف علاقوں اور قوموں سے تعلق رکھنے والے مسلمان ایک ہی لباس ''احرام'' میں ملبوس نظر آتے ہیں.

سعودی عرب نے حج کے موقع پرسوائن فلو کے مہلک وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لئے متعدد حفاظتی اقدامات کئے ہیں.ان میں جدہ کے شاہ عبدالعزیزبین الاقوامی ہوائی اڈے،مدینہ کے شاہ محمد بن عبدالعزیزائیرپورٹ اور جدہ اور ینبوع کی بندرگاہوں پر تھرمل کیمرے لگائے گئے ہیں.محکمہ صحت کے حکام جدہ کے حج ٹرمینل پر چوبیس گھنٹے کام کررہے ہیں.

سعودی مملکت کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ سوائن فلو کے خطرے سے نمٹنے کے لئے عالمی ادارہ صحت اور امریکا کے مرکز برائے انسدادامراض کی سفارشات پر عمل درآمد کررہے ہیں.سعودی حکام نے اس سے پہلے حاملہ خواتین، بارہ سال سے کم عمر بچوں اور پیسنٹھ سال سے زائد عمر کے بوڑھوں کو حج پر نہ آنے کا مشورہ دیا تھا.اس کے علاوہ دائمی امراض کا شکار افراد کو بھی حج کے لئے مکة المکرمہ نہ آنے کی ہدایت کی گئی تھی.