یہودی بستیاں :دنیا کی تنقید کے باوجود اسرائیل کی ہٹ دھرمی برقرار
امریکا اور یورپی یونین کا اسرائیل کو نئی تعمیرات کے منصوبے پرانتباہ
عالمی طاقتوں نے اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطینیوں کی غیرقانونی طورپرقبضہ میں لی گئی اراضی پریہودیوں کے لئے نئے مکانات کی تعمیر کے منصوبہ پر سخت ردعمل کا اظہارکیا ہے اور امریکا نے صہیونی ریاست کو خبردار کیا ہے کہ اس کے اقدامات کی وجہ سے مشرق وسطیٰ میں امن کا عمل دوبارہ شروع کرنے کے لئے کوششوں کو نقصان پہنچ رہا ہے.
امریکی صدربراک اوباما کی انتظامیہ نے یہ سخت ردعمل اسرائیل کی وزارت داخلہ کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کے علاقے غیلو میں یہودیوں کے لئے مزید نوسو نئے مکانوں کی تعمیر کی منظوری کے فیصلہ کے بعد ظاہر کیا ہے.
وائٹ ہاٶس کے ترجمان رابرٹ گبز نے منگل کی رات ایک بیان میں کہا کہ ہمیں مقبوضہ بیت المقدس کی پلاننگ کمیٹی کی جانب سے غیلو کی یہودی بستی میں توسیع کے لئے نئے مکانوں کی تعمیر کے فیصلہ پرسخت مایوسی ہوئی ہے.
صدراوباما نے بہ ذات اسرائیلی اقدام کو خطرناک قراردیا ہے اوریورپی یونین نے اس پر اپنی مایوسی کا اظہار کیا ہے جبکہ روس کا کہنا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس میں نئے مکانات کی تعمیر کا فیصلہ اس کے لئے بالکل ناقابل قبول ہے.
صدربراک اوباما نے اسرا ئیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن مذاکرات کی بحالی کو اپنی خارجہ پالیسی کا بڑا مقصد قراردے رکھا ہے اور اس کے لئے ان کا اسرائیل سے مطالبہ ہے کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی تعمیر منجمد کردے لیکن اسرائیل نے ان کے اس مطالبے کو یکسر نظر اندازکردیا ہے.
رابرٹ گبز کا کہنا تھا کہ ایک ایسے وقت میں جب ہم مذاکرات کی بحالی کے لئے کوشاں ہیں،اس طرح کے اقدامات سے ہماری کوششوں کی کامیابی اور بھی مشکل ہوجائے گی.انہوں نے اسرائیل کے بارے میں پہلی مرتبہ کھل کر کہا کہ اس کے اقدامات کی وجہ سے امریکا کی قیادت میں امن کے عمل کو نقصان پہنچ رہا ہے.
واضح رہے کہ فلسطینی قیادت اسرائیل کے ساتھ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی تعمیر منجمد ہونے تک امن مذاکرات کی بحالی سے انکار کرچکی ہے اور واشنگٹن بھی اسی موقف کا حامی ہے کہ اسرائیل کو اعتماد کی فضا بحال کرنے کے لئے یہودی بستیوں کی تعمیر کا سلسلہ منجمد کرنا چاہئے.
نیتن یاہو کی مذمت
اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق انتہا پسند صہیونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو مقبوضہ مشرقی بیت المقدس میں قبضہ میں لی گئی اراضی پرغیر قانونی طور پر نئی تعمیرات کے حوالے سے کوئی لچک دکھانے کو تیار نہیں اور انہوں نے امریکا کی جانب سے غیلو میں یہودیوں کے لئے مکانوں کی تعمیرروکنے کے مطالبے کو یکسر نظرانداز کردیا ہے.
عالمی برادری کی جانب سے ایک متنازعہ علاقے میں مکانوں کی تعمیر کی اجازت دینے پرنیتن یاہو کی مذمت کی جارہی ہے. اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون کے ایک ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''سیکرٹری جنرل نے اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ فلسطینی علاقے میں غیلو کی یہودی بستی کو توسیع دینے کے لئے اسرائیلی حکومت کے فیصلے پرافسوس کا اظہار کیا ہے''.
فرانس اور سعودی عرب نے مقبوضہ بیت المقدس میں غیلو کی یہودی بستی کو توسیع دینے کے فیصلہ پر اسرائیل کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے.
فرانسیسی وزیرخارجہ برنارڈ کوشنر نے مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی وزیراعظم سے ملاقات سے قبل ایک بیان میں کہا کہ ''یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جس پر ہم افسوس کا اظہار کرتے ہیں.ہمیں اس سلسلہ میں سیاسی بات چیت کا آغاز کرنا ہوگا''.
سعودی عرب نے اسرائیلی اقدام کو امن کے عمل کی راہ میں بڑی رکاوٹ قراردیا ہے.سعودی وزارت خارجہ کے ترجمان اسامہ نوغالی نے ایک بیان میں کہا کہ جب تک ان پالیسیوں کے حوالے سے کوئی فیصلہ کن اقدامات نہیں کئے جاتے ،اس وقت تک امن عمل کو آگے بڑھانا بہت مشکل ہوگا.
برطانوی دفتر خارجہ کی ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ دفتر خارجہ اور سیکرٹری خارجہ اس معاملے میں بڑے واضح ہیں کہ مقبوضہ بیت المقدس کو مشترکہ دارالحکومت بنانے کے لئے ایک واضح ڈیل ہونی چاہئے.لیکن مشرقی بیت المقدس میں یہودی بستیوں کی توسیع سے یہ ڈیل مشکل ہوجائے گی اس لئے یہ فیصلہ غلط ہے اورہم اس کی مخالفت کرتے ہیں.
دائمی دارالحکومت
غیلوکا علاقہ مشرقی بیت المقدس میں واقع ہے.اس پر اسرائیل نے 1967ء کی جنگ کے دوران قبضہ کیا تھا اور بعد میں غیر قانونی طور پراسے اپنی ریاست میں ضم کرلیا تھا لیکن عالمی برادری نے اسرائیل کے اس اقدام کو تسلیم نہیں کیا.
اب اسرائیل پورے مقبوضہ بیت المقدس کو اپنے دائمی اور مستقل دارالحکومت کے طورپر پیش کررہا ہے جبکہ فلسطینی القدس الشریف کے مشرقی حصے کو اپنی مستقبل میں قائم ہونے والی ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں.مقبوضہ بیت المقدس کو تینوں الہامی مذاہب اسلام ،یہودیت اورعیسائیت میں ایک مقدس مقام کا درجہ حاصل ہے.
فلسطینی صدر محمودعباس کا کہنا ہے کہ وہ امن مذاکرات کا کوئی نتیجہ نہ نکلنے کی وجہ سے مایوسی کا شکار ہیں اوراب ان کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں بچاکہ وہ یک طرفہ طورپر آزاد فلسطینی ریاست کو عالمی برادری سے تسلیم کرانے کے لئے کوششیں کریں.انہوں نے کہا کہ امریکا اور یورپ اس سلسلہ میں ہماری حوصلہ شکنی کرتے ہیں توتب بھی ہم اپنی کوششیں جاری رکھیں گے.
قاہرہ میں مصرکے صدر حسنی مبارک سے بات چیت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا ''ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ ہم ایک بہت ہی مشکل صورت حال سے دوچار ہیں.اب اس کے بعد ہمارے لئے کیا حل رہ جاتا ہے. ہم امن کے بغیر اسی طرح تعطل کا شکار رہیں یا اپنی کوششیں جاری رکھیں اور اسی وجہ سے میں نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرانے کے لئے قدم اٹھایا ہے.