جمعرات 12 ربيع الثاني 1432هـ - 17 مارچ 2011م
آخری وقت اشاعت: بدھ 26 ذی القعدہ 1431هـ - 03 نومبر 2010م KSA 13:07 - GMT 10:07

2009ء میں امریکی فوج میں خودکشی کے 140 کیسز

امریکی فوجیوں میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے رجحان کی تحقیقات

بدھ 01 ذی الحجہ 1430هـ - 18 نومبر 2009م
افغانستان میں اس وقت 68 ہزار کے قریب امریکی فوجی تعینات ہیں.فائل
افغانستان میں اس وقت 68 ہزار کے قریب امریکی فوجی تعینات ہیں.فائل
واشنگٹن.ایجنسیاں

امریکی فوجیوں میں اس سال خودکشی کے رجحان میں نمایاں اضافہ ہوا ہے لیکن ایک جنرل کا کہنا ہے کہ یہ بات واضح نہیں کہ فوجیوں کی بار بار عراق اور افغانستان میں تعیناتی ان میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے رجحان کا بڑا سبب ہے یا اس کی کوئی اور وجہ ہے.

امریکی آرمی کے وائس چیف آف اسٹاف جنرل پیٹرشیا ریلی نے ایک نیوز کانفرنس کے دوران بتایا ہے کہ رواں سال کے آغاز سے اب تک امریکی فوجیوں کے خودکشی کے ایک سو چالیس کیس رپورٹ ہو چکے ہیں جبکہ گذشتہ سال بھی اتنی ہی تعداد میں امریکی فوجیوں نے خودکشی کی تھی.

جنرل شیاریلی کا کہنا ہے کہ اس سال کے اختتام تک خود کشی کرنے والے امریکی فوجیوں کی تعداد گذشتہ سال کے مقابلے میں بڑھ جائے گی. انہوں نے بتایا کہ امریکی فوج کے فعال ڈیوٹی نہ کرنے والے اہلکاروں کے سوموار تک خودکشی کے اکہتر کیس رپورٹ ہوئے ہیں اور یہ تعداد سال 2008ء کے مقابلے میں زیادہ ہے.

خود کشی کرنے والے امریکی فوجیوں کے بارے میں یہ اعداد وشمار ایک ایسے وقت میں جاری کئے گئے ہیں جب امریکی صدر براک اوباما افغانستان میں مزید فوج بھیجنے پر غور کر رہے ہیں جبکہ اس جنگ زدہ ملک میں پہلے ہی اڑسٹھ ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں.