امریکی فوجیوں میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے رجحان کی تحقیقات
2009ء میں امریکی فوج میں خودکشی کے 140 کیسز
امریکی فوجیوں میں اس سال خودکشی کے رجحان میں نمایاں اضافہ ہوا ہے لیکن ایک جنرل کا کہنا ہے کہ یہ بات واضح نہیں کہ فوجیوں کی بار بار عراق اور افغانستان میں تعیناتی ان میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے رجحان کا بڑا سبب ہے یا اس کی کوئی اور وجہ ہے.
امریکی آرمی کے وائس چیف آف اسٹاف جنرل پیٹرشیا ریلی نے ایک نیوز کانفرنس کے دوران بتایا ہے کہ رواں سال کے آغاز سے اب تک امریکی فوجیوں کے خودکشی کے ایک سو چالیس کیس رپورٹ ہو چکے ہیں جبکہ گذشتہ سال بھی اتنی ہی تعداد میں امریکی فوجیوں نے خودکشی کی تھی.
جنرل شیاریلی کا کہنا ہے کہ اس سال کے اختتام تک خود کشی کرنے والے امریکی فوجیوں کی تعداد گذشتہ سال کے مقابلے میں بڑھ جائے گی. انہوں نے بتایا کہ امریکی فوج کے فعال ڈیوٹی نہ کرنے والے اہلکاروں کے سوموار تک خودکشی کے اکہتر کیس رپورٹ ہوئے ہیں اور یہ تعداد سال 2008ء کے مقابلے میں زیادہ ہے.
خود کشی کرنے والے امریکی فوجیوں کے بارے میں یہ اعداد وشمار ایک ایسے وقت میں جاری کئے گئے ہیں جب امریکی صدر براک اوباما افغانستان میں مزید فوج بھیجنے پر غور کر رہے ہیں جبکہ اس جنگ زدہ ملک میں پہلے ہی اڑسٹھ ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں.