عراق کے سنی عرب نائب صدر نے دربدر ہونے والے عراقیوں کے لئےنشستیں مختص کرنے کی دفعہ پر اعتراض ہونے کی وجہ سے نئے انتخابی قانون کو ویٹو کردیا ہے جس کے بعد جنوری میں عام انتخاب کے انعقاد سے متعلق شکوک وشبہات پیدا ہوگئے ہیں.
عراق کے نائب صدر طارق الہاشمی صدارتی کونسل کا حصہ ہیں اور اسے قانون سازی کے معاملات میں ویٹو کا اختیارحاصل ہے.انہوں نے منگل کے روز ایک نیوزکانفرنس میں کہا کہ انہیں پارلیمان کے منظورکردہ قانون کی دفعہ ایک پراعتراض ہے کیونکہ اس میں بیرون ملک رہنے والے عراقیوں کو کوئی حق نہیں دیا گیا.
انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنے اعتراض کا خط صدارتی کونسل کے حوالے کردیا ہے اوراس کی ایک کاپی پارلیمان کو بھیج دی گئی ہے.انہوں نے بتایا کہ ان کی تجویزکردہ ترمیم میں صرف بے گھر ہوکرہمسایہ ملک میں رہنے والے عراقیوں کا خیال نہیں رکھا گیا بلکہ اس میں بیرون ملک مقیم تمام عراقیوں کو انصاف فراہم کیا گیا ہے.
طارق الہاشمی کا کہنا تھا کہ انہوں نے منظورکردہ قانون کواپنی ترمیم کے ساتھ واپس پارلیمنٹ کے پاس بھیج دیا ہے.انہوں نے صرف ایک ہی دفعہ پراعتراض کیا ہے اور انہیں یقین ہے کہ اس مسئلہ کو پارلیمنٹ کے صرف ایک اجلاس میں طے کرلیا جائے گا.
واضح رہے کہ بیرون ملک مقیم عراقیوں میں سنی مسلمانوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے جو 2003ء میں امریکی فوج کے حملے اور صدام حکومت کے خاتمہ کے بعد ملک چھوڑ کرچلے گئے تھے.
طارق الہاشمی نے اس تاثرکو مسترد کردیا کہ ان کی جانب سے انتخابی قانون کو مسترد کئے جانے سے انتخابات بھی تاخیر کا شکار ہوسکتے ہیں.ان کا کہنا تھا کہ اس سے انتخابی تیاریوں پر کوئی فرق نہیں پڑنا چاہئے اور انتخابات کے انعقاد کی تاریخ میں بھی کوئی تبدیلی نہیں ہونی چاہئے.
عراقی الیکشن کمیشن کی جانب سے اعلان کردہ شیڈول کے مطابق ملک میں عام انتخابات 18 سے 23 جنوری تک منعقد ہوں گے اور انہیں امریکی فوج کے عراقی شہروں سے انخلاء کے بعد ایک اہم سنگ میل قراردیا جارہا ہے.
عراقی پارلیمان کے ارکان نے کئی ہفتے کی بحث کے بعد 8 نومبر کو نئے انتخابی قانون کی منظوری دی تھی لیکن اب نائب صدر طارق الہاشمی کی جانب سے اس قانون کو مسترد کئے جانے کے بعد عراق کی لڑکھڑاتی جمہوریت کے لئے بھی خطرات پیدا ہوگئے ہیں اور اس سے امریکا کے اگست 2010ء کے آخرتک لڑاکا فوجی دستوں کے انخلاء پربھی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں.
امریکا کے فوجی حکام کا کہنا ہے کہ وہ عام انتخابات کے انعقاد کے ساٹھ روز بعدعراق سے فورسز کا انخلاء شروع کریں گے،تب تک ان کے بہ قول نئی حکومت کے قیام کے بعد استحکام آچکا ہوگا.
امریکی صدر براک اوباما کے عراق سے امریکی فوج کے انخلاء کے منصوبہ کے تحت اگست 2010ء کے اختتام تک تمام جنگجو دستوں کی واپسی ہوجانی چاہئے اورعراقی سکیورٹی فورسز کی تربیت یا دوسرے مقاصد کے لئے باقی رہ جانے والے فوجیوں کی 2011ء کے آخر تک واپسی ہوگی.