امریکا کی چیٹ شو کوئن اوپراہ وینفرے کو دنیا بھر سے تعلق رکھنے والی خواتین کے ایک پروگرام کے دوران دبئی کے بارے میں غلط معلومات فراہم کرنے پر معذرت کرنا پڑی ہے.
دنیا کے چند بڑے شہروں کوپن ہیگن،ریوڈی جنیرو،استنبول ،ٹوکیو اور دبئی سے تعلق رکھنے والی خواتین کے بارے میں پروگرام اکتوبر میں نشر ہوا تھا اور اس میں دبئی سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر لامیس ہمدان نامی خاتون نے اسکائپ فون کے ذریعے شو میں گفتگو کی تھی اور انہوں نے دبئی میں اپنی زندگی اور شہر کا احوال بیان کیا تھا.
شو کے اس حصہ کا آغاز اوپراہ کی پس پردہ آواز کے ساتھ ہوا تھا جس میں انہوں کہا کہ''اس ملک کی تیل کی دولت کا شکریہ کہ جس کی بدولت حکومت شہریوں کو پانی،بجلی اور صحت کی مفت سہولتیں مہیا کررہی ہے لیکن ان سب سے بڑھ کر یہ کہ اس شہر میں کوئی انکم ٹیکس عاید نہیں ہے''.
ڈاکٹر ہمدان نے ناظرین کو بتایا کہ دبئی میں لوگ اپنے یوٹیلیٹی بل ادانہیں کرتے اور یہ ایک غلط دعویٰ تھا.انہوں نے کہا کہ دبئی میں کوئی غریب لوگ نہیں ہیں اور بات کرتے ہوئے انہوں نے شہر میں جنوب مشرقی ایشیا سے تعلق رکھنے والے ہزاروں غیر ہنر مند کارکنوں کو یکسر نظراندازکردیا جو بہت کم تنخواہوں پر گزارا کرتے ہیں.
ان کے اس بیان پر شوکی ویب سائٹ www.oprah.com پر ناراض ناظرین نے اپنے تبصروں کی بھرمار کردی ہے.انہوں نے اپنے تبصروں میں لکھا کہ ڈاکٹر ہمدان اور اوپراہ نے دبئی میں زندگی کے بارے میں جھوٹ بولا اور اس کا غلط نقشہ کھینچا ہے.
این خوری 22 نامی ایک تبصرہ نگار نے لکھا کہ ''ہم بجلی اور پانی کے بل اداکرتے ہیں اور یہ غیر معروف ڈاکٹر کہاں سے آئی ہیں جو غلط بات کررہی ہیں''.ان کا یہ تبصرہ یوٹیوب پر اس شو کی ویڈیو کے ساتھ پوسٹ کیا گیا ہے.
پانچ بچوں کی ماں اس خاتون نے یہ کہہ کر بھی لوگوں کو خود پر تنقید کی دعوت دی کہ روایتی سیاہ لباس اور اسکارف جسے شیلا اور عبایا کہا جاتا ہے،ثقافتی لباس ہیں اوران کی مذہبی حیثیت نہیں ہے.
ری میکس 69 نامی ایک تبصرہ نگار نے یوٹیوب پرلکھا کہ ''عورت کے لئے عبایا پہننا اورسر کو ڈھانپنا اسلام میں فرض ہے اور یہ کوئی کلچرل فیچر نہیں بلکہ ہرمسلمان خاتون کے لئے لازمی ہے کہ وہ سرپوش اوڑھے اور اپنے جسم کو ڈھانپ کر رکھے.اس لئے آپ یہ غلط کہہ رہی ہیں کہ سرپوش لینا یا عبایا اوڑھنا محض ایک ثقافتی پہچان ہے''.
ایک اور نکتہ کی جانب بھی بعض عرب ناظرین نے اشارہ کیا ہے کہ انٹرویوآن لائن فون سسٹم اسکائپ کے ذریعے کیا جارہا تھا جبکہ یہ متحدہ عرب امارات میں بلاک ہے لیکن حیرت انگیزطور پراسے ڈاکٹر ہمدان کے لئے کھول دیا گیا تھا.
اوپراہ کی پروڈکشن کمپنی ہارپو کی ایک خاتون ترجمان نے نیویارک پوسٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''اوپراہ شو کا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا کہ دبئی کے لوگوں کی غلط نمائندگی کی جائے.ڈاکٹر ہمدان ہمارے پروگرام میں لائیو نمودار ہوئی تھیں اور انہوں نے دبئی کی ایک شہری کی حیثیت سے اپنے تجربات کو بیان کیا تھا.اگراس سے ہمارے کسی ناظر کے جذبات مجروح ہوئے ہیں تو ہم اس پر معذرت خواہ ہیں''.