پرِنٹ کیجئے
بھیجئے
Bookmark and Share
مشاركة
بدھ 01 ذو الحجة 1430هـ - 18 نومبر 2009م

گوانتانامو جیل کی بندش میں تاخیر کا سامنا ہے:براک اوباما کا اعتراف

 

واشنگٹن.ایجنسیاں

امریکا کے صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ ''انہیں یقین ہے گوانتا نامو بے کیوبا میں واقع امریکی فوج کی جیل آئندہ سال بند کی جا سکتی ہے''لیکن ساتھ ہی انہوں نے پہلی مرتبہ اعتراف کیا ہے کہ وہ جنوری کی ڈیڈ لائن کے مطابق اس عقوبت خانے کو بند نہیں کر سکیں گے.

امریکی صدر نے این بی سی ٹیلی ویژن کو ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکیوں کو گیارہ ستمبر کے حملوں کی منصوبہ بندی کرنے والے پانچ افراد کے نیویارک شہر میں ٹرائل پرخوف زدہ نہیں ہونا چاہئے. انہوں نے تسلیم کیا کہ ''گوانتانامو بے کی بندش کے لئے ہم نے جو ڈیڈ لائن مقرر کی تھی، ہم اس پر پورا نہیں اتر سکے''.

براک اوباما نے جنوری میں عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ وہ گوانتانامو بے کو ایک سال کے عرصہ میں بند کر دیں گے. ان کا کہنا تھا کہ یہ حراستی مرکز امریکا کے انسانی اور شہری حقوق کے معیار پر پورا نہیں اترتا.

صدر اوباما نے اپنے انٹرویو میں امریکیوں پر زور دیا کہ وہ نائن الیون حملوں کی منصوبہ بندی کرنے والوں کے خلاف نیویارک میں مقدمہ چلانے کے حوالے سے خاموشی کا مظاہرہ کریں.انہوں نے کہا کہ یہ کہنا غلط ہوگا کہ یہ دہشت گرد کوئی مخصوص قوت رکھتے ہیں اور وہ ہمیں اپنے خلاف کوئی شہادت پیش کرنے سے روک دیں گے.

ان کے بہ قول اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ خالد شیخ محمد اور ان کے ساتھیوں کو سزائے موت دینے کے لئے ٹرائل سے کوئی منفی اثرات مرتب ہوں گے کیونکہ وہ خود اپنے جرم کا اقرار کر چکے ہیں.

براک اوباما نے کہا کہ ''انہیں امریکی عوام، اپنے ملک کی قانونی روایت، پراسیکیوٹرز اور دہشت گردی میں تخصص رکھنے والے نیویارک کے سخت پراسیکیوٹرز پر مکمل اعتماد ہے''.

امریکی اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر نے صدر براک اوباما کے ایشیائی ملکوں کے دورہ کے موقع پر القاعدہ کے مبینہ پانچ دہشت گردوں کو فیڈرل عدالتوں میں ان کے خلاف مقدمات چلانے کے لئے نیویارک منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا.

اوباما انتظامیہ کے اس فیصلے پر اپوزیشن جماعت ری پبلکن پارٹی نے کڑی نکتہ چینی کی ہے.پارٹی کے سینٹر اور اوباما کے سابق حریف صدارتی امیدوار جان مکین نے خبردار کیا ہے کہ اس فیصلہ سے امریکا کے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عزم کے حوالے سے ایک ملا جلا پیغام گیا ہے.

انہوں نے کہا کہ ہم حالت جنگ میں ہیں اور ہمیں دہشت گردوں کو اسی انداز میں انصاف کے کٹہرے میں لانا چاہئے جس طرح انہوں نے دہشت گردی کی خوفناک کارروائیوں کا ارتکاب کیا تھا.

سینٹ کی جوڈیشری کمیٹی کے روبر وبیان دیتے ہوئے امریکی اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر نے خالد شیخ محمد اور ان کے دیگر ساتھیوں کے خلاف فوجداری عدالتوں میں مقدمہ چلانے کے اپنے فیصلے کا دفاع کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کے خلاف مقدمات کی سماعت کے دوران کلاسیفائیڈ مواد کا بھی تحفظ کیا جائے گا.

واپس اوپر
مضمون پر نقطہء نظر
 تبصرہ کیجئے

نام: 

موضوع: 

مندرجات: