پاکستان کے شمال مغربی صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور کی ضلع کچہری کے مرکزی دروازے پر جمعرات کو ایک خودکش بم حملے میں بیس افراد جاں بحق اور چالیس سے زیادہ زخمی ہو گئے۔
پشاور کے ضلعی رابطہ افسر صاحب زادہ انیس نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ان ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔ حملے میں جاں بحق ہونے والوں میں تین پولیس اہلکار اور ایک وکیل بھی شامل ہے۔
بم دھماکے میں سولہ افراد موقع ہی جاں بحق ہوگئے تھے. خودکش دھماکے کے بیشترزخمیوں کو قریب واقع لیڈی ریڈنگ اسپتال منتقل کیاگیاتھا جن میں چارافراد شدید زخمی ہوئے تھے.انہیں بچانے کےلئے ڈاکٹرزنے سرتوڑکوششیں کیں مگر وہ جانبرنہ ہوسکے.
لیڈی ریڈنگ اسپتال کی انتظامیہ کے مطابق دھماکے میں چالیس سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں بعض کی حالت تشویشناک ہے،اس لئے ہلاکتوں میں اضافے کاخدشہ ہے۔
صاحب زادہ انیس نے بتایا کہ خودکش حملہ آورکچہری میں داخل ہونا چاہتا تھا اور جب اُسے تلاشی کے لیے روکا گیا تو اُس نے خود کو دھماکا خیز مواد سے اُڑا دیا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل خیبر روڈ پر ہی واقع حساس ادارے پر گذشتہ ہفتے کار بم حملہ ہوا تھا۔ خیبر روڈ ہی پر پرل کانٹینینٹل ہوٹل بھی واقع ہے جس پر پہلے کار خودکش حملہ ہو چکا ہے۔
واضح رہے کہ حالیہ دنوں کے دوران پشاور میں ہونے والے بم دھماکوں میں بیسیوں افراد جاں بحق اور سیکڑوں زخمی ہو گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملے جنوبی وزیرستان میں عسکریت پسندوں کے خلاف جاری فوجی آپریشن کا ردعمل ہیں۔