دبئی- العربية
یمنی وزارت دفاع کے مطابق سرکاری فوج نے حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے والے شیعہ مسلک حوتی باغیوں کے اہم رہ نما "علی القطوانی" کو ہلاک کرنے کا دعوی کیا ہے۔
وزارت دفاع کی سرکاری ویب سائٹ 26september.net کے مطابق یمنی فوج نے جنوبی علاقے میں واقع الخزان، السبخانۃ، جبل الدخان اور المسفوح کی پہاڑی چوٹیوں کی جانب پیش قدمی جاری رکھے ہوئی ہے۔ اس پیش قدمی کے دوران یمنی فوج نے حوتیوں کے زیر استعمال متعدد گاڑیوں اور اسلحہ کے گودام بھی تباہ کرنے کا دعوی کیا ہے۔
یمنی فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ سرکاری افواج نے الملاحیط محور میں حوتیوں کی تحریک عملا معطل کر دیا ہے۔
ادھر صنعاء سے العربیۃ کے نمائندے نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ یمنی فوج نے صعدۃ شہر پر حوتی باغیوں کا حملہ ناکام بنا دیا ہے۔ اس کارروائی میں باغیوں کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ ایک اور فوجی ذریعے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر العربیۃ کو بتایا کہ حوتیوں کا ایک فوجی کمانڈر ہلاک ہو گیا ہے
شمالی یمن میں فوج سے جھڑپ میں ایک اور حوتی باغی رہ نما کے ہلاک ہونے کے اطلاعات بھی ہیں مگر ابھی تک اس کی دوسرے آزاد ذریعے سے تصدیق نہیں ہو سکی۔ اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والے مبینہ حوتی رہ نماوں کے دیگر ساتھیوں نے یمنی فوج کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق حوتی باغیوں کے فوجی یونٹ کے کمانڈرعباس عیضۃ صعدۃ کے نواحی علاقے العمشیۃ میں ہونے والی خونریز جھڑپ میں ہلاک ہو گئے۔ ذرائع کے مطابق فوجی کمانڈر یوسف المدانی صعدۃ شہر پر یمنی فوج کے حملے میں زخمی ہو گئے تھے مگر انہیں زخمی حالت میں گرفتار نہیں کیا جا سکا۔ یاد رہے کہ باغی حوتیوں کی تنظیم کے رہ نما صھر حسین علاقے سے فرار ہو گئے ہیں۔
باخبر ذرائع کے حوالے سے یمنی وزارت دفاع کے ویب پورٹل نے تصدیق کی ہے کہ سرکاری فوج کی فائرنگ سے سعودی عرب کی سرحد میں جبل دخان کے علاقے میں ایک حوتی رہ نما ہلاک ہو گیا ہے۔ فوجی ذریعے نے گذشتہ بدھ کو دعوی کیا تھا کہ ابو حیدر نامی فوج رہ نما کو صعدۃ کے علاقے میں ہلاک کیا جا چکا ہے۔
ویب پورٹل کے مطابق یمنی فوج نے دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں میں مطلوب عبد اللہ محمد الخیامی کو جمعرات کے روز حراست میں لیا ہے۔ ویب سائٹ میں فوج نے دعوی کیا ہے کہ صعدۃ شہر سے باغی اب پسپا ہو رہے ہیں۔
یمن کی فوج اور سیاسی قیادت نے حوتی باغیوں اور ان کے حامیوں کو ہتھیار ڈال کر معمول کی زندگی شروع کرنے کی پیشکش کرتے ہوئے یقین دلایا ہے کہ ایسا کرنے والوں کے خلاف کسی قسم کی کارروائی نہیں کی جائے گی۔
 |
صعدۃ پرباغیوں کا حملہ پسپا جمعرات کے روز یمنی فوج نے اسٹرٹیجیک اہمیت کے شہر صعدۃ پرحوتی باغیوں کا حملہ پسپا کر دیا۔ حملے میں باغیوں کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ یمنی فوج کی کارروائی میں متعدد فوجیوں کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات بھی ہیں۔
دارلحکومت صنعاء میں العربیۃ کے نمائندے کے مطابق باغیوں نے صعدۃ شہر کے نواح میں واقع شمالی اور جنوبی ٹھکانوں سے شہر پر بڑا حملہ کیا۔ حملے کا مقصد شہر پر کنڑول حاصل کر کے وہاں موجود جمہوری پیلس پر قبضہ کرنا تھا۔
عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ اس کارروائی کے دوران شہر اور صدارتی محل کا دفاع کرنے والی یمنی فوج اور باغیوں کے درمیان گھمسان کی جنگ ہوئی۔ حوتی باغی ایسے بھرپور حملوں کے ذریعے ہر قیمت پر یمنی حکومت اور فوج کو شکست دینا چاہتے ہیں۔ وہ صعدۃ پر کنڑول حاصل کر کے میڈیا میں یہ پروپیگنڈہ کرنا چاہتے ہیں کہ وہ مستقبل میں آگے چل کر یمن کے کسی بھی شہر پر بہ آسانی قبضہ کر سکتے ہیں۔
درایں اثنا یمنی فوج نے حرف سفیان کے علاقوں میں حوتی باغیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ باغیوں کے زیادہ تر ٹھکانے صعدۃ شہر کے مغرب میں الملاحیظ محور پر واقع ہیں۔
ادھر دوسری جانب یمن اور سعودی عرب کی سرحد پر سعودی فوج کی یمنی باغیوں کے ٹھکانوں پر توپ خانے اور جنگی جہازوں سے بمباری جاری ہے۔ سعودی فوج نے جبل دخان، جبل الرمیح اور دوسرے اہم حساس مقامات پر اپنا کنٹرول مضبوط بنا لیا ہے۔
سعودی عرب کے لڑاکا طیاروں نے جبل دخان کے مشرق میں حوتی باغیوں کی ان محفوظ پناہ گاہوں پر بمباری کی ہے، جنہیں باغی سعودی سرحد کے اندر در اندازی کے روٹ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ توپخانے کی مسلسل گولہ باری سے حوتی باغیوں کا وہ قلعہ تباہ ہو گیا ہے جسے وہ او پی پوسٹ کے طور پر سعودی سرحد کی مانیٹرنگ کے استعمال کر رہے تھے۔
سعودی عرب کی بری فوج کو علاقے میں سنگلاخ چٹانوں اور گھاٹیوں کی وجہ سے آزادانہ نقل و حرکت میں مشکل پیش آ رہی ہے۔ اس دوران سعودی حکام نے مزید سرحدی دیہات خالی کرا لئے ہیں۔ بے گھر ہونے والے سعودیوں کی خمیہ بستیوں کے اندر سہولیات میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔
|
