جمعرات 12 ربيع الثاني 1432هـ - 17 مارچ 2011م
آخری وقت اشاعت: بدھ 26 ذی القعدہ 1431هـ - 03 نومبر 2010م KSA 13:07 - GMT 10:07

ایران نے جوہری معاہدے کی بنیاد پر پابندی کی باتوں کو مسترد کر دیا

امریکا اور اس کے شراکت داروں کا ایران کے خلاف نئی پابندیاں لگانے پر غور

جمعرات 02 ذی الحجہ 1430هـ - 19 نومبر 2009م
مغرب نے ایران کے خلاف نئی پابندیاں عاید کرنے کے لئے کوششیں تیز کر دی ہیں.
مغرب نے ایران کے خلاف نئی پابندیاں عاید کرنے کے لئے کوششیں تیز کر دی ہیں.
سیول،منیلا،ایجنسیاں

امریکی صدر براک اوباما کا کہنا ہے کہ امریکا اور اس کے شراکت داروں نے ایران کی جانب سے مجوزہ جوہری معاہدے کو مسترد کئے جانے کے بعد اس پر نئی سخت پابندیاں لگانے پر غور شروع کر دیا ہے.

صدر اوباما نے کہا کہ انہوں نے ایران کے لئے اس کے جوہری تنازعے کے حل کی غرض سے دروازہ کھلا چھوڑا ہوا ہے لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ اس کی قیادت نے ابھی تک کسی معاملے میں ہاں نہیں کی.اس لئے واشنگٹن اور اس کے شراکت دار اب اس کے مضمرات پر غور کر رہے ہیں.

ایک یورپی سفارتکار نے بدھ کے روز بتایا ہے کہ مغربی طاقتوں نے ایران کے خلاف اقوام متحدہ کی چوتھے مرحلے کی پابندیاں عاید کرانے کے لئے بات چیت کا عمل تیز کر دیا ہے لیکن روس اور چین کی حمایت یقینی بنانے کے لئے پابندیوں میں ایران کے توانائی کے شعبے کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا.

اس یورپی سفارتکار کا اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہنا تھا کہ ''ہم نے ایران کے جانب سے ایک طویل عرصے تک مثبت ردعمل کا انتظار کیا ہے.لیکن چھے بڑی طاقتوں سے تعلق رکھنے والے ہمارے دوستوں کا کہنا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ایران کے خلاف اقوام متحدہ میں کسی اگلے اقدام پر غور کیا جائے.

60ء کی دہائی کا لٹریچر

درایں اثناء ایران نے جمعرات کو بڑی طاقتوں کی جانب سے افزودہ یورینیم کو بیرون ملک بھیجنے سے متعلق معاہدے کو رد کرنے کے بعد ممکنہ نئی پابندیوں کو بھی مسترد کر دیا ہے.

ایرانی وزیر خارجہ منوچہر متکی نے فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران کہا کہ ''پابندیاں انیس سو ساٹھ اور انیس سو ستر کی دہائی کا لٹریچر ہیں''.

ایرانی وزیر خارجہ نے ایک ترجمان کے ذریعے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''میرے خیال میں وہ عقل مند ہیں اور وہ ناکام تجربات کا اعادہ نہیں کریں گے.یقیناً اس بات کا انحصار اب مکمل طور پر ان پر ہے''.ان کا اشارہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جانب تھا.

ایران کی ایسنا نیوز ایجنسی نے بدھ کے روز منوچہر متکی کے بیان کے حوالے سے اطلاع دی تھی کہ انہوں نے جوہری توانائی کے عالمی ادارے کی جانب سے ایران کی افزودہ یورینیم کو ایندھن میں تبدیل کرنے کے لئے پیش کئے گئے مجوزہ معاہدے کو مسترد کر دیا ہے.

منوچہر متکی نے اپنا یہ موقف دہرایا کہ ''اگر افزودہ یورینیم کو ایران ہی میں جوہری ایندھن میں تبدیل کیا جاتا ہے تو ان کا ملک اس مجوزہ معاہدے پر بات چیت کے لئے رضا مند ہے''.

آئی اے ای اے نے معاہدے میں تجویز کیا تھا کہ ایران کو اپنی کم تر افزود یورینیم کے ذخیرہ کو روس اور فرانس بھیجنا چاہئے جہاں اسے ایندھن میں تبدیل کیا جائے گا اور پھر اسے تہران میں واقع ایک میڈیکل ریسرچ ری ایکٹر میں استعمال کرنے کے لئے واپس بھیجا جائے گا.