افغان صدر حامد کرزئی نے پانچ سالوں پر محیط دوسری مدت صدارت کے لئے حلف اٹھا لیا ہے۔ تقریب حلف برادری میں امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن اور پاکستان کے صدر آصف علی زرداری بھی خصوصی طور پر شرکت کے لئے کابل آئے تھے۔
حلف برداری کی تقریب کے موقع پر کابل شہر میں سخت حفاطتی اقدامات اٹھائے گئے تھے اور صدارتی محل کو ایک محفوظ قلعے میں تبدیل کر دیا گیا تھا تاکہ کسی بھی قسم کا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔ طالبان عسکریت پسندوں کی جانب سے ممکنہ حملے کے خطرے کے پیش نظر غیر ملکی سفارت خانوں اوراقوام متحدہ کے عملے کو گھروں میں رہنے کی تاکید کی گئی تھی۔ کابل میں پولیس اور نیم فوجی دستے گشت کرتے رہے اور شہر کے گرد خار دار تاریں بچھا کر غیر متعلقہ افراد کی دارلحکومت داخلے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔
تقریب حلف وفاداری کے موقع پر امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے کابل میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے "کہ یہ مخصوص وقت افغانستان کے لئے ایک کڑا امتحان ہے۔" مسسز کلنٹن نے کہا کہ حامد کرزئی کا دوسری مدت کے لئے منتخب ہونا ان کو ایک موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ افغان عوام کا معیار زندگی بلند کرنے میں کامیاب ہوں۔ ہلیری کلنٹن نے بدھ کی رات صدر کرزئی کے ساتھ ملاقات کی اور ملک سے بدعنوانی کے خاتمے اورعوامی بہبود کے منصوبہ جات ترتیب دینے اوران پر موثر عمل کرنے پر زور دیا۔
دوسری طرف کئی امریکی سینیٹرز نے صدر حامد کززئی کے دوبارہ صدر منتخب ہونے پر اپنے تحفظات بھی ظاہر کئے ہیں۔ حامد کرزئی کے قابل اعتبار امریکی اتحادی ہونے پر کئی سوالات اٹھائے گئے ہیں جبکہ ان کے بارے میں یہ شک بھی کیا جا رہا ہے کہ آیا وہ افغانستان کی موجودہ ابتر صورتحال میں بہتری اور طالبان باغیوں کو روکنے کے لئے کوئی موثر اقدامات اٹھا سکیں گے بھی یا نہیںِ۔
یاد رہے حامد کرزئی اگست میں منعقد کئے گئے صدارتی انتخابات میں کامیاب قرار دئے گئے تھے تاہم بعد ازاں ثابت ہوا تھا کہ انتخابات کے دوران وسیع پیمانے پر دھاندلی کی گئی ہے، جس کے بعد دوسرے مرحلے کا اعلان کیا گیا۔ ان کے حریف اور سابق افغان وزیر خارجہ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ، دوسرے مرحلے میں ممکنہ دھاندلیوں کے پیش نظر انتخابی عمل سےاحتجاجًا دستبردار ہوئے تو حامد کرزئی کو ملک کا صدر منتخب کر لیا گیا۔
اس صورتحال میں امریکی صدر باراک اوباما افغانستان میں طالبان باغیوں کی شدت پسندانہ کارروائیوں کو روکنے کے لئے وہاں مزید چالیس ہزار فوجی تعینات کرنے پر بدستور غور کر رہے ہیں۔ اگرچہ اس حوالے سے اوباما پر شدید دباؤ ہے تاہم انہوں نے کہا ہے کہ وہ اس بارے میں فیصلہ جلد ہی کر لیں گے۔
اپنے حالیہ دورہ چین کے دوران صدر اوباما نے حامد کرزئی کے بارے میں کہا کہ کرزئی میں کچھ کمزوریوں کے ساتھ قابلیتیں بھی ہیں۔ حامد کرزئی کی تقریب حلف برادری میں شرکت کے لئے امریکی وزیر خارجہ کا خصوصی دورہ افغانستان، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حامد کرزئی کو امریکہ کی بھر پور حمایت حاصل ہے۔
ادھر جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے بدھ کے دن برلن میں افغانستان متعین جرمن فوجیوں کے مشن میں ایک سال کی توسیع کا اعلان کر دیا ہے۔ جرمن وزیر خارجہ ویسٹر ویلے نے کہا کہ جرمنی کے اس قدم سے ثابت ہوتا ہے کہ برلن حکومت افغانستان میں قیام امن کے لئے پر عزم ہے۔