برطانیہ کے حساس خفیہ اداروں نے انکشاف کیا ہےالقاعدہ کے اسیر رہ نما جیل میں قید کے دوران باہمی رابطے کے لئے خفیہ کوڈز پر مبنی زبان استعمال کرتے ہیں۔ انہی اداروں نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ اس وقت القاعدہ کے دس ہزار "غیر متحرک سیل" موجود ہیں۔
امریکی جریدے "ورلڈ نیٹ ڈیلی" نے برطانوی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ خفیہ زبان کے کوڈ یورپ میں القاعدہ کے تین خطرناک ترین رہنماوں نے تیار کئے ہیں۔ القاعدہ کے یہ تینوں رہ نما ان دنوں برطانوی جیلوں میں سخت حفاظتی انتظامات میں مقید ہیں۔
جریدے کے آن لائن ایڈیشن کے مطابق ان خفیہ کوڈز کے موجد القاعدہ کے رہ نما ابو قتادہ ہیں، جو داخلی سلامتی سے متعلق خفیہ برطانوی ادارے MI5 کے بہ قول اسامہ بن لادن کے پورپ میں دست راست ہیں۔ ان دنوں ابو قتادہ برطانیہ کی لانگ ہارٹن جیل میں قید ہیں۔
خفیہ زبان کے کورڈ وضع کرنے والی ٹیم کے دوسرے اہم رکن برطانیہ کی بلمارش جیل میں قید ہیں۔ ان کے بارے میں برطانوی خفیہ ادارے دعوی کرتے ہیں کہ یہ یورپ میں القاعدہ کی بھرتی سے متعلق امور کا نگران ہے۔ خفیہ زبان کا تیسرا موجد "ابو حمزۃ" کے نام سے جانا جاتا ہے اور ان دنوں بلمارش جیل میں اسیری کے دن گذار رہا ہے۔ اسے چند دنوں میں امریکا منتقل کیا جا رہا ہے۔
ابو حمزہ کو یہ "اعزاز" بھی حاصل ہے کہ وہ جیل میں پانی کی پائیپوں کے ذریعے مخصوص کوڈڈ زبان استعمال کر کے جیل سے باہر پیغام رسانی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ امریکی نیوز پورٹل کے مطابق برطانیہ کے سیکیورٹی اداروں کو اس خفیہ زبان کو ڈی کوڈ کرنے میں چھے ماہ کا عرصہ لگا۔ اس مقصد کے لئے انہیں برطانیہ کے شمال میں امریکی نیشنل سیکیورٹی سے متعلق ایک ایجنسی کا تعاون بھی حاصل رہا ہے۔
پورٹل نے خفیہ ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ کوڈڈ زبان مختلف الفاظ اور اعداد کا مجموعہ ہے۔ اس مخصوص زبان میں اسعتمال ہونے والے الفاظ افغانستان، پاکستان، ایران، یمن، سوڈان میں بولی زبانوں کے مختلف لہجوں سے لئے گئے ہیں۔ ان کوڈز کے ذریعے خفیہ پیغام تحریری طور جیل سے باہر منتقل کیا جاتا تھا۔