اطالوی خاتون نے کرنل قذافی کی دعوت قبول کرلی
میزبان خاتون لیبیائی لیڈر سے تحفہ میں ملنے والے قرآن کی تلاوت کررہی ہیں
لیبیا کے رہ نما کرنل معمر قذافی نے گذشتہ اتوار کو جن دوسونوجوان خواتین کو ایک پارٹی کے دوران اسلام کی دعوت دی تھی ان میں سے ایک نے ان کی دعوت قبول کرلی ہے.
اٹلی کے شہر میلان سے شائع ہونےوالے اخبارکورئیرڈیلا سیرا کی بدھ کی اشاعت میں ایک رپورٹ کے مطابق ستائیس سالہ الداربیرو نے بتایا ہے کہ کرنل قذافی جیسے غیر روایتی لیڈر سے ملاقات نے ان کی زندگی بدل کررکھ دی ہے.
اس اطالوی میزبان خاتون کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے میں اسلام سے خوفزدہ تھی لیکن اب اس میں میرے لئے بہت کشش ہے.روبیرو کو دوسو خواتین کے ساتھ روم کی ایک اشتہاری ایجنسی ہوسٹس ویب نے کرنل قذافی کی پارٹی میں شرکت کے لئے مدعو کیا تھا.ان میں سے بہت سی خواتین ایک پرتعیش پارٹی کے چکر میں اس تقریب میں آئی تھیں لیکن انہیں کرنل قذافی کا اسلام میں خواتین کے کردار پر لیکچر سننا پڑا تھا.
ربیرو اصلاً پرتگال سے تعلق رکھتی ہیں. وہ یونیورسٹی گریجوایٹ اور پانچ زبانیں بول سکتی ہیں.ان کا کہنا ہے کہ میرے نزدیک اس سے پہلے اسلام کا یہ تصور تھاکہ اس میں صرف خواتین ہی کو دباٶ جاتا اور ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے.اس شام بھی لڑکیوں کو یہ خوف لاحق تھا کہ ان کے ساتھ شاید کوئی ایسا ہی سلوک کیا جائےگا''.
ربیرونے بتایا کہ وہ لیبیا کے سفیر کی دعوت پر تقریب میں شرکت کے بعد اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کررہی ہیں اور کرنل قذافی کی جانب سے تحفے میں ملنے والے قرآن مجید کے نسخے کی تلاوت کررہی ہیں.
انہوں نے بتایا کہ انہوں نے کرنل قذافی سے سوال کیا تھا کہ ان کے خیال میں خواتین کیا کردار ہے تو اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ہمیشہ خواتین کے حقوق کی حمایت کی ہے .لیکن میں ان سے ایسی بات کی توقع نہیں کررہی تھی.
ربیرو نے بتایا کہ ''اسی وجہ سے میں نے ان کی دعوت قبول کرلی.اب میں لیبیا جارہی ہوں.میں جاننا اور اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتی ہوں اورا س کے بعد میں کوئی فیصلہ کروں گی''.