قید فلسطینی لیڈر کا آزاد ریاست کے قیام کے لئے عوامی جدوجہد کا مطالبہ
حماس اور فتح کے درمیان تقسیم کا کوئی جواز نہیں: مروان برغوثی
اسرائیلی جیل میں قید "فتح" تحریک کے رہ نما مروان برغوثی نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ صہیونی ریاست کے ساتھ امن مذاکرات کی ناکامی کے بعد فلسطینیوں کو اپنی آزاد ریاست کے قیام کے لئے ایک بھرپور عوامی اور سفارتی مہم شروع کرنی چاہئے.
پچاس سالہ مروان برغوثی گذشتہ پانچ سال سے اسرائیلی جیل میں قید ہیں لیکن وہ اس کے باوجود فلسطینیوں میں بہت مقبول ہیں اور بعض لوگ انہیں اسرائیلی مظالم کا شکار فلسطینیوں کا نیلسن منڈیلا قرار دیتے ہیں اور ان کے بہ قول اگر انہیں اسرائیل رہا کر دیتا ہے تو وہ اپنی صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہوئے منتشر فلسطینیوں کو متحد کر سکتے ہیں.
مروان برغوثی کا امریکا کی امن سفارتکاری کے تعطل کاشکار ہونے کے تناظر میں کہنا ہے کہ فتح تحریک اور حماس کے درمیان تقسیم کا کوئی بھی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا. انہوں نے کہا کہ فتح اور حماس کے درمیان کوئی بنیادی نوعیت کے اختلافات نہیں ہیں.
انہوں نے اسرائیل کے خلاف 1987ء میں شروع ہوئے پہلے انتفاضہ اور 2000ء میں دوسرے انتفاضہ میں قائدانہ کردار ادا کیا تھا. اسرائیل نے 2004ء میں مروان برغوثی کو اسرائیلیوں پر حملوں اور قتل کے الزام میں عمر قید کی سزا سنائی تھی.انہوں نے جیل کی کوٹھڑی سے برطانوی خبر رساں ادارے رائیٹرز کے سوالوں کے تحریری جواب دئیے ہیں.
مروان برغوثی کو ان کی گرفتاری سے قبل فلسطینی لیڈر یاسرعرفات کا جانشین قرار دیا جا رہا تھا لیکن 2004ء میں لیجنڈ فلسطینی رہ نما کے انتقال کے بعد محمود عباس فلسطینی اتھارٹی کے صدر بن گئے تھے. اب انہیں محمود عباس کا جانشین سمجھا جا رہا ہے.
انہوں نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ مذاکرات کی ناکامی کے سائے اور امن کے لئے کوئی اسرائیلی پارٹنر نہ ہونے کے پیش نظر اس وقت فوری حکمت عملی یہ اختیار کی جانی چاہئے کہ فلسطینیوں کے درمیان اختلافات کا خاتمہ کیا جائے اور قومی اتحاد کو بحال کیا جائے.
انہوں نے کہا کہ اب تک قومی مصالحتی معاہدہ طے نہ پانے کا کوئی بھی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا .انہوں نے فلسطینی دھڑوں کے درمیان اختلافات اور تقسیم کو پوری فلسطینی قوم کے خلاف ایک جرم قرار دیا. دونوں بڑے فلسطینی دھڑوں........ حماس اور فتح .......کے درمیان جون 2007ء میں حماس کے غزہ پر کنٹرول کے بعد سے اختلافات کی خلیج مزید گہری ہو گئی ہے.انہوں نے حماس پر زور دیا کہ وہ مصر کی جانب سے پیش کئے گئے مصالحتی منصوبے پر دستخط کر دیں تا کہ صدارتی اور قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کا انعقاد ممکن ہو سکے.