جمعرات 12 ربيع الثاني 1432هـ - 17 مارچ 2011م
آخری وقت اشاعت: بدھ 26 ذی القعدہ 1431هـ - 03 نومبر 2010م KSA 13:08 - GMT 10:08

معاہدہ لسبن کی منظوری کے بعد

یورپی یونین کے صدر اور خارجہ امور کے سربراہ کی نامزدگیاں مکمل

جمعہ 03 ذی الحجہ 1430هـ - 20 نومبر 2009م
(بائیں) ہرمن وان رومپوئے اور کیتھرین ایشٹن
(بائیں) ہرمن وان رومپوئے اور کیتھرین ایشٹن
برسلز ۔ ایجنسیاں

یورپی یونین میں اصلاحات کے پیکیج یعنی " معاہدہ لسبن" کو حتمی منظوری ملنے کے بعد بیلجیئم کے ہرمن وان رومپوئے یورپی یونین کے پہلے صدر اور برطانوی کمشنر کیتھرائن ایشٹن خارجہ امور کی سربراہ منتخب کرلئے گئے۔

برطانوی وزیراعظم گورڈن براوٴن کے ترجمان نے بتایا کہ ان عہدیداروں کا چناو اس وقت عمل میں آیا جب برطانوی وزیراعظم گورڈن براون صدارت کے لیے نامزدگی یونین کے ستائیس ارکان کی اکثریت کی رضامندی حاصل نہ کرسکی۔

ان دونوں عہدوں کا مقصد یہ ہے کہ عالمی برادری میں یورپی یونین کی پوزیشن مستحکم کی جائے اورعالمی اقتصادیات میں چین جیسی معیشتوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔ دونوں افراد ممکنہ طور پر یکم دسمبر سے اپنے عہدے سنبھال لیں گے۔ یونین کے صدر کا انتخاب ڈھائی سال کی مدت کے لئے کیا گیا ہے اور اسے دوسری مدت کے لئے بھی منتخب کیا جا سکتا ہے جبکہ خارجہ امور کے سربراہ کے عہدے کی مدت پانچ سال کے لئے ہو گی۔

یورپی یونین کے سربراہان مملکت و حکومت کی طرف سے متفقہ طور پر نامزد کئے گئے دونوں افراد کا خارجہ امور کے حوالے سے تجربہ کوئی خاص نہیں ہے۔ باسٹھ سالہ ہرمن وان رومپوئے اور ترپن سالہ کیتھرائن ایشٹن کو یورپی یونین سے باہر زیادہ لوگ نہیں جانتے۔

یونین کے صدر نامزد ہونے کےبعد رومپوئے نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا "کہ ہر یورپی ملک کی اپنی تاریخ اور تہذیب ہے، اور وہ اسی تناظر میں اپنے فرائض سر انجام دیتا ہے۔ ہمارا کام یہ ہے کہ اس حوالےسے مشترکہ مفادات تلاش کئے جائیں۔ یونین کے تمام رکن ممالک مختلف پس منظر رکھتے ہیں اور اس بات کو فراموش کرنا مضر ہو گا، ایک دوسرے کی متنوع تاریخ کو نظر انداز کرنے سے ہم کبھی بھی متحد نہیں ہو سکیں گے اور میں یہ اصول ہمیشہ یاد رکھوں گا۔"

اسی طرح کیتھرین ایشٹن نے اپنے نئے منصب کو ایک چیلنج قرار دیتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں سنجیدگی سے نبھانے کا عہد کیا۔