افغانستان کے مغربی شہر فراہ کے ایک مصروف چوک میں جمعہ کی صبح خودکش بم دھماکے میں تیرہ افراد جاں بحق اور تیس زخمی ہو گئے ہیں.
افغانستان سے موصولہ اطلاعات کے مطابق خود کش بمبار ایک موٹر سائیکل پر سوار تھا اور اس نے فراہ شہر کے ایک مصروف چوک میں خود کو دھماکے سے اڑا لیا جس کے نتیجے میں تیرہ افراد موقع پر ہلاک ہوگئے.فراہ شہر کے اسپتال کے ایک ڈاکٹر شیر آغا اساس نے بتایا ہے کہ بم حملے میں زیادہ تر بچے زخمی ہوئے ہیں جو اپنے والدین کے ہمراہ خریداری کے لئے آئے تھے۔
صوبہ فراہ کے پولیس سربراہ جنرل محمد فقیر عسکر کا کہنا ہے کہ موٹر سائیکل پر سوار خود کش بمبار کو ابھی پولیس اہلکار رکنے کا اشارہ کر رہے تھے کہ اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا ۔یہ دھماکا فراہ شہر میں واقع صوبائی گورنر کے کمپاٶنڈ سے صرف 50 میڑ دور ایک مصروف چوک میں
ہوا۔
صوبائی پولیس سربراہ نے غیر ملکی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ علاقے میں افغان اور بین الاقوامی اتحادی فوج نے ان دنوں طالبان کی مزاحمت کو کچلنے کے لئے ایک بڑا آپریشن شروع کر رکھا ہے، جس کے بعد طالبان نے بھی خود کش حملوں میں اضافہ کر دیا ہے۔
یہ خود کش حملہ افغان صدر حامد کرزئی کے اپنی دوسری مدت کے صدارتی حلف اٹھانے کے صرف ایک روز بعد کیا گیا ہے۔ مسٹر کرزئی نے اپنے خطاب میں طالبان سے مصالحت کو ملک میں قیام امن کے ایجنڈے کی بڑی ترجیح قرار دیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ''طالبان کی صفوں میں شامل وہ ناراض لوگ جو براہ راست بین الاقوامی دہشت گردی میں ملوث نہیں، انہیں ہم دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنی سر زمین پر واپس آ جائیں''.
کابل میں گذشتہ روز افغان صدر کی تقریب حلف برداری کے موقع پر جنوبی صوبہ زابل میں ایک خودکش بم دھماکے میں دو امریکی فوجی ہلاک ہو گئے تھے. اس واقعہ کے چند گھنٹے کے بعد ایک اور صوبے میں خودکش بم دھماکے میں تین بچوں سمیت دس افراد ہلاک اور تیرہ زخمی ہو گئے تھے.