مصر: الجزائری سفارت خانے کے باہر احتجاجی مظاہرہ، 35 پولیس اہلکار زخمی
الجزائریوں کے حملوں کے بعد مصری غم وغصے کا شکار
الجزائر کے ہاتھوں فٹ بال عالمی کپ کے کوالیفائنگ راٶنڈ کے ایک میچ میں مصر کی شکست کے بعد دونوں ممالک کے درمیان بدستور سفارتی اور عوامی سطح کشیدگی جاری ہے اور دونوں ممالک سے تعلق رکھنے والے شائقین فٹ بال ایک دوسرے کو نشانہ بنا رہے ہیں.
مصری شہریوں نے دارالحکومت قاہرہ میں جمعہ کے روز الجزائر کے سفارتخانے کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا ہے اور اس دوران انہوں نے وہاں تعینات پولیس اہلکاروں پر پتھراٶ کیا اور ان کی جانب آگ کے گولے پھینکے ہیں جس سے35اہلکار زخمی ہو گئے.
مصر کی وزارت داخلہ نے اس واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ مظاہرین کے پتھراٶ سے پندرہ کاروں کو نقصان پہنچا ہے. الجزائری سفارتخانے کی جانب شاہراہ پر جمعرات کی شب احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا تھا لیکن پولیس نے مظاہرین کی سفارتخانے کی جانب جانے کے لئے متعدد کوششیں ناکام بنا دیں. اس موقع پر مصری مظاہرین نے الجزائر کا قومی پرچم بھی نذرآتش کر دیا. مظاہرین قاہرہ میں متعین الجزائری سفیر کو ملک بدر کرنے کا بھی مطالبہ کر رہے تھے.
مصر میں مظاہرے گذشتہ بدھ کو سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں الجزائر اور مصر کے درمیان میچ کے بعد مصری شائقین فٹ بال کی بس پر حملے کے ردعمل میں شروع ہوئےتھے. مصری شائقین کا کہنا ہے کہ الجزائریوں نے اسٹیڈیم سے ائیرپورٹ جاتے ہوئے ان کی بس پر پتھراٶ کیا تھا.
اس میچ میں شکست کے بعد مصر آئندہ فٹ بال عالمی کپ کی دوڑ سے باہر ہو گیا تھا جبکہ الجزائر نے 2010ء میں جنوبی افریقہ میں کھیلے جانے والے عالمی کپ کے مقابلوں میں شرکت کے لئے کوالیفائی کر لیا تھا اور وہ واحد عرب ملک ہے جو اس عالمی ٹورنا منٹ میں شرکت کرے گا.