بیروت.ایجنسیاں
شیخ حسن نصر اللہ چھٹی مرتبہ لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے سربراہ منتخب ہو گئے ہیں.ان کا انتخاب جمعرات کی شب تنظیم کی کانگریس میں کیا گیا ہے جس میں اس کے ایک نئے منشور کی منظوری دی گئی ہے.
انچاس سالہ حسن نصر اللہ 1992ء سے حزب اللہ کے سربراہ چلے آ رہے ہیں،ان کے پیش رو اسی سال اسرائیلی ہیلی کاپٹر کے ایک حملے میں جاں بحق ہو گئے تھے.یہ شیعہ ملیشیا 1982 میں قائم کی گئی تھی.
حزب اللہ کی جانب سے جاری کئے گئے ایک بیان کے مطابق حسن نصراللہ بہت جلد ایک نیوز کانفرنس کے دوران نئے منشور کی تفصیل بیان کرنے والے ہیں. واضح رہے کہ حسن نصر اللہ 2006ء میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے بعد روپ وشی کی زندگی گزار رہے ہیں. اس سے پہلے انہوں نے صرف ایک مرتبہ ویڈیو لنک کے ذریعے نیوز کانفرنس کی تھی.
امریکا نے حزب اللہ کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے.اس جماعت کے لبنان میں اسی ماہ سعد حریری کی قیادت میں تشکیل پانے والی نئی حکومت میں دو وزیر ہیں. اس تنظیم کے 1985ء میں پیش کئے گئے منشور میں لبنان میں اسلامی حکومت کے قیام پر زور دیا گیا تھا.لیکن حالیہ برسوں کے دوران سیاسی میدان میں اثر و رسوخ حاصل کرنے کے بعد جماعت کے موقف میں بھی کچھ نرمی پیدا کی گئی ہے.
جمعرات کو حزب اللہ کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پارٹی کانگریس میں منظور کردہ دستاویز میں جماعت کے لائحہ عمل میں حالیہ برسوں کے دوران رونما ہونے والی تبدیلیوں کی توثیق کی گئی ہے.
حزب اللہ کی قیادت کے انتخابات بالعموم ہر تین سال کے بعد ہوتے ہیں اور یہ آخری مرتبہ 2004ء میں ہوئے تھے. جماعت کے ایک عہدے دار کا کہنا ہے کہ انتخابات میں دو سال کی تاخیر لبنان کے اندرونی سیاسی اختلافات اور 2006ء میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ کی وجہ سے تاخیر ہوئی ہے.
حزب اللہ نے وقت کے ساتھ ساتھ خود کو ایک عسکری تنظیم کے علاوہ فلاحی اور سیاسی جماعت کے قالب میں بھی ڈھالا ہے اور اس وقت وہ متعدد کلینک، اسکول، ایک ٹی وی اسٹیشن اور ایک ہفت روزہ اخبار چلا رہی ہے. وہ لبنان کی بارہ لاکھ شیعہ آبادی کی فلاح وبہبود کے لئے بھی کام کر رہی ہے.
