اٹلی میں انسداد دہشت گردی پولیس نے نومبر 2008ء میں ممبئی حملوں میں ملوث جنگجوؤں کو رقوم بھیجنے کے الزام میں دو پاکستانیوں کو گرفتار کر لیا ہے۔
اطالوی پولیس نے ہفتہ کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ ان دونوں افراد کا بھارتی حکام اور امریکا کے فیڈرل بیورو آف انوسٹی گیشن (ایف بی آئی) کی جانب سے ملنے والی معلومات سے پتا چلا تھا اور انہوں نے اٹلی کے جنوبی قصبے بریشیا میں مدینہ ٹریڈنگ ایجنسی کے نام سے رقوم کی منتقلی کا کاروبار قائم کر رکھا تھا اور اسی کے ذریعے سمندر پار رقم بھیجی گئی تھیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ممبئی حملوں سے تھوڑا عرصہ قبل ان دونوں افراد نے اس واقعے میں ملوث جنگجوؤں سے براہ راست تعلق رکھنے والے افراد کے انٹرنیٹ فون کالز کے بل کی ادائی کے لئے رقوم بھیجی تھیں۔ ان کے خلاف معلومات کے اخفا، دہشت گردی میں معاونت اور غیر قانونی مالیاتی سرگرمی کا الزام عاید کیا گیا ہے۔
بریشیا میں انسداد دہشت گردی پولیس اسٹیفانو فونزی نے بتایا ہے کہ دونوں پاکستانیوں کو علی الصباح ایک چھاپہ مار کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا ہے اور وہ دونوں باپ بیٹا ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان دونوں نے 26 نومبر کو ممبئی حملوں کے آغاز سے صرف ایک روز قبل ایک انٹرنیٹ فون اکاؤنٹ کو ایکٹیویٹ کرنے کے لئے رقم بھیجی تھی۔
فونزی نے بتایا کہ رقم ایک اور پاکستانی کے نام سے منتقل کی گئی تھی اور وہ کبھی اٹلی میں نہیں رہا تھا اور وہ ممبئی حملوں میں بھی کسی طرح ملوث نہیں تھا لیکن اس کی شناخت ممکنہ طور پر رقوم منتقل کرنے والے ایک اور ادارے سے چرائی گئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ اطالوی حکام نے ان دونوں افراد کی شناخت کے بارے میں پاکستانی حکام سے بھی معلومات کا تبادلہ کیا تھا۔ گرفتار کئے گئے پاکستانیوں کے نام ساٹھ سالہ محمد یعقوب جنجوعہ اور اکتیس سالہ عامر یعقوب جنجوعہ بتائے گئے ہیں۔
اطالوی حکام نے ان دونوں افراد کے خلاف گزشتہ سال دسمبر میں امریکا اور بھارتی حکام کی جانب سے معلومات ملنے کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔ اطالوی حکام نے ہفتہ کے روز دو اور پاکستانیوں کو بھی غیر قانونی انسانی اسمگلنگ کے الزام میں گرفتار کیا ہے لیکن ان کا ممبئی حملوں سے کوئی تعلق نہیں۔
یاد رہے کہ دس مسلح افراد نے بھارت کے مغربی شہر ممبئی میں گذشتہ سال چھبیس نومبر کو بیک وقت دو بڑے ہوٹلوں اور ایک یہودی مرکز سمیت متعدد اہداف کو نشانہ بنایا تھا۔ ان تین روزہ حملوں کے دوران ایک سو چھیاسٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے اور نو حملہ آور بھی مارے گئے تھے جبکہ ایک کو زندہ گرفتار کر لیا گیا تھا۔ ممبئی حملوں کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات مزید کشیدگی کا شکار ہو گئے تھے اور دونوں ممالک کے دوران ایک سال گزرنے کے بعد بھی مذاکرات کا عمل شروع نہیں ہو سکا۔