ایران کے ایک سنئیر کمانڈر نے کہا ہے کہ آئندہ ہفتے جوہری تنصیبات کے خلاف کسی حملے سے بچاؤ کے لئے بڑے پیمانے فضائی دفاعی مشقیں کی جا رہی ہیں جبکہ ایک سخت گیر سیاسی جماعت کے سربراہ نے اپوزیشن لیڈر میر حسین موسوی کے خلاف صدارتی انتخابات کے بارے میں ''بڑا جھوٹ'' بولنے اور اسے پھیلانے کے الزام میں مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا ہے۔
ایرانی مسلح افواج کے ائیر ڈیفنس ہیڈکوارٹرز کے سربراہ بریگیڈئیر جنرل احمد مغانی کا کہنا ہے کہ ایران بہ ذات خود اپنا ایک جدید میزائل دفاعی نظام بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے یہ دعویٰ روس کی جانب سے اسرائیل اور امریکا کے دباؤ پر ایران کو جدید میزائل دفاعی نظام کی فراہمی میں تاخیر کے تناظر میں کیا ہے۔
مغانی کا کہنا ہے کہ روس اسرائیل کے دباؤ کی وجہ سے ایس300 میزائل دفاعی نظام کی فراہمی میں تاخیر کر رہا ہے اور اس میں کوئی فنی مسائل حائل نہیں۔ ایران کے نیم خبر رساں ادارے فارس کے مطابق انہوں نے کہا کہ ''ہمیں توقع ہے کہ روس صہیونی لابی کے دباؤ کو نظر انداز کر دے گا''۔جنرل مغانی کا کہنا ہے کہ ''اس ہفتے فضائی دفاعی مشقیں ملک کی جوہری تنصیبات کے تحفظ کے نقطہ نظر سے کی جا رہی ہیں''۔
ایرانی میڈیا کے مطابق دشمن کے ممکنہ حملے سے بچاؤ کے لئے فوجی مشقیں اتوار سے شروع ہوں گی اور ان میں پاسداران انقلاب اور ایران کی باقاعدہ مسلح افواج حصہ لیں گی۔ واضح رہے کہ اسرائیل اور امریکا نے جوہری تنازعے پر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے امکان کو مسترد نہیں کیا جبکہ ایران کا بھی کہنا ہے کہ اگر اس پر حملہ کیا گیا تو وہ اسرائیل اور مشرق وسطیٰ میں امریکا کے اہداف کو نشانہ بنائے گا۔
درایں اثناء ایران کے ایک سخت گیر رہ نما نے اپوزیشن لیڈر اور شکست خودہ صدارتی امیدوار میر حسین موسوی کے خلاف جون کے متنازعہ انتخابات کے خلاف ''بڑا جھوٹ'' پھیلانے کے الزام میں مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا ہے۔
ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ایرنا کے مطابق قدامت پسند اسلامی اتحاد پارٹی کے سیکرٹری جنرل محمد نبی حبیبی کا کہنا ہے کہ ''میں اس بات میں یقین رکھتا ہوں کہ موسوی اور ان تمام لوگوں کے خلاف قانون کی عدالت میں مقدمہ چلایا جانا چاہئے جنہوں نے انتخابات کے بارے میں بڑے جھوٹ کو پھیلایا تھا''۔
میرحسین موسوی اور دوسرے اپوزیشن رہ نماؤں نے ایران میں بارہ جون کو ہونے والے صدارتی انتخابات پر بڑے پیمانے پر دھاندلی کا الزام عاید کیا تھا۔ انہوں نے صدر محمود احمدی نژاد کی دوسر ی مدت کے لئے کامیابی کو فراڈ اور دھاندلیوں کا نتیجہ قرار دیا تھا ۔صدارتی انتخابات کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں حصہ لینے کی پاداش میں سیکڑوں افراد کو گرفتار کیا گیا تھا جن کے خلاف اب ایرانی عدالتوں میں مقدمات چلائے جا رہے ہیں۔گذشتہ منگل کو ایک ایرانی عدالت نے پرتشدد مظاہروں کے جرم میں پانچ افراد کو سزائے موت اور اکاسی کو پندرہ سال تک قید کی سزائیں سنائی تھیں۔