حکومت پاکستان نے ہفتہ کے روز قومی مفاہمتی آرڈی ننس( این آر او ) سے فائدہ اٹھانے والے افراد کی فہرست جاری کر دی ہے، جس کے مطابق مجموعی طور پر آٹھ ہزار اکتالیس افراد سابق صدر پرویز مشرف کے جاری کردہ اس متنازعہ آرڈی ننس سے مستفید ہوئے ہیں۔ ان میں زیادہ تر افراد کا تعلق صوبہ سندھ سے ہے جن کی تعداد سات ہزار سات سو ترانوے ہے۔
وفاقی وزیر مملکت برائے قانون افضل سندھو نے اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران این آر او سے فائدہ اٹھانے والے بعض سیاستدانوں کے نام پڑھ کر سنائے ہیں جن میں پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اور وزیر داخلہ رحمن ملک نمایاں ہیں۔
دوسری شخصیات میں موجودہ اور سابقہ ارباب اقتدار سلمان فاروقی، حسین حقانی(امریکا میں پاکستان کے سفیر)، اے آر صدیقی، واجد شمس الحسن، حاجی نواز کھوکھر، انور سیف اللہ، چودھری احمد مختار، بیگم نصرت بھٹو، جہانگیر بدر، رانا نذیر احمد خان، چودھری عبد الحمید، چودھری طارق انیس، سردار مقصود لغاری، آغا سراج درانی، آفتاب شیرپاؤ، مشتاق اعوان میر باز خان کھیتران، عثما ن فاروقی، بریگیڈیئر اسلم حیات، آفتاب شیرپاؤ (سابق وزیرداخلہ) اور انٹیلی جنس بیورو کے سابق سربراہ بریگیڈیئر امتیاز شامل ہیں۔
انہوں نے کہ این آر او کے آرٹیکل 2 کے تحت ریویو بورڈ نے سندھ سے تعلق رکھنے والی بعض سیاسی شخصیات کو فائدہ پہنچایا گیا ہے ان میں متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین، وفاقی وزیر بابر غوری، گورنر سندھ عشرت العباد، ڈاکٹر عمران فاروق، نعمان سہگل، ڈاکٹر فاروق ستار، سلیم شہزاد، کنور خالد یونس،شعیب بخاری اور صفدر باقری شامل ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کے مشیر سعید مہدی بھی این آر او سے فائدہ اٹھانے والوں میں شامل ہیں۔
ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے خلاف قائم مقدمات کی تعداد بہتر ہے۔ وزیر مملکت نے کہا کہ این آر او سے فائدہ اٹھانے والوں میں سیاستدانوں کے نام آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف صرف دو کیسز تھے ، جن میں عدالت نے انہیں بری کر دیا تھا، جبکہ ان کی اہلیہ بھی این آر او سے فائدہ اٹھانے والوں میں شامل نہیں۔
وزیر مملکت برائے قانون کا کہناتھا کہ کرپشن کے کیسز دس دس سال سے عدالتوں میں زیر التوا تھے۔صرف ایک کیس کا فیصلہ ہوا جس کے بعد تین ججوں کو استعفیٰ دینا پڑا تھا، انہوں نے کہا کہ بہت سے مقدمات سیاسی انتقام کے تحت بنائے گئے تھے۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق این آر او کو 28نومبر تک تحفظ حاصل ہے۔اس کے فیصلے پر ہی این آر او کو پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا تھا اور آئندہ بھی عدالت عظمیٰ کے ہر فیصلے کا احترام کیا جائے گا۔