جمعرات 12 ربيع الثاني 1432هـ - 17 مارچ 2011م
آخری وقت اشاعت: بدھ 26 ذی القعدہ 1431هـ - 03 نومبر 2010م KSA 13:09 - GMT 10:09

سہ فریقی مذاکرات سے متعلق پاکستانی وزیر خارجہ کے بیان کا خیر مقدم

چین کا جنوبی ایشیا امن مذاکرات میں اہم کردار ہے: میر واعظ عمر فاروق

اتوار 05 ذی الحجہ 1430هـ - 22 نومبر 2009م
میرواعظ عمر فاروق کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان مسئلہ کشمیرکا اہم فریق ہے اور اس کو نظر انداز کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔فائل
میرواعظ عمر فاروق کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان مسئلہ کشمیرکا اہم فریق ہے اور اس کو نظر انداز کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔فائل
سری نگر(العربیہ،ایجنسیاں)

بھارت کے زیر انتظام مقبوضہ کشمیر کی حریت پسند جماعتوں پر مشتمل اتحاد کل جماعتی حریت کانفرنس کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق نے کہا ہے کہ چین کا جنوبی ایشیا اور خاص طور پر کشمیر میں قیام امن کے لئے ایک اہم کردار ہے ۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان تریسٹھ سال سے حل طلب تنازعہ کشمیر کے ضمن میں چین کے کردار کی بات حریت کانفرنس کے اپنے دھڑے کے چئیرمین میر واعظ نے پہلی مرتبہ بھی کی ہے۔واضح رہے کہ اس وقت ریاست جموں وکشمیر کے پینتالیس فی صد حصے پر بھارت قابض ہے، پینتیس فی صد پاکستان کے زیر انتظام ہے اور باقی علاقہ چین کے کنٹرول میں ہے۔

میر واعظ نے جمعہ کو جامع مسجد سری نگر میں ہزاروں مسلمانوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ''چین کا کشمیر سے براہ راست تعلق ہے کیونکہ اکسائی چن سمیت اس کے بعض حصے اس کے کنٹرول میں ہیں۔ میں اس بات میں یقین رکھتا ہوں کہ چین اس تنازعے کا ایک فریق ہی نہیں بلکہ اس کا خطے میں قیام امن کے لئے بھی ایک کردار ہے''۔

میر واعظ کا کہنا تھا کہ ''وہ چین کے دورے کا پروگرام بنا رہے ہیں''۔ انہوں نے کہا کہ'' حریت کانفرنس تنازعہ کشمیر کے حل کے ضمن میں چین اور امریکا کی جانب سے اختیار کی جانے والی مشترکہ حکمت عملی کا خیر مقدم کرتی ہے''۔ وہ امریکی صدر براک اوباما کے بیجنگ کے حالیہ دورہ کے موقع پر ان کے اور چینی صدر خوچن تاؤ کے درمیان ملاقات کے بعد جاری ہونے والے بیان کا حوالہ دے رہے تھے جس میں پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کی بہتری کے لئے کوششوں کی حمایت کا اظہار کیا گیا تھا۔ لیکن بھارت نے اس بیان کے ردعمل میں کہا ہے کہ اسے پاکستان کے ساتھ تعلقات کی بہتری کے لئے کسی بیرونی فریق یا دوسرے ملک کی مدد کی ضرورت نہیں ہے۔

پاکستانی وزیر خارجہ کے بیان کا خیر مقدم

درایں اثناء مقبوضہ کشمیر میں بھارتی تسلط سے آزادی کے لئے کوشاں کل جماعتی حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں نے مسئلہ کشمیر پر سہ فریقی مذاکرات سے متعلق پاکستانی وزیر خارجہ کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ دو طرفہ مذاکرات سے یہ مسئلہ آج تک حل ہو سکا اور نہ آئندہ ہو گا۔ اگر بھارت واقعی اس دیرینہ تنازعہ کو حل کرنے میں سنجیدہ ہے تو اسے مسئلہ کشمیر کو بنیاد بنا کر سہ فریقی مذاکرات کیلئے راہ ہموار کرنی چاہئے۔

یاد رہے کہ پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جمعہ کو جنوبی شہر ملتان میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ مسئلہ کشمیر سے متعلق سرینگر اورنئی دلی کے درمیان بات چیت پاکستان کے بغیر بے معنی ہے۔ انہوں نے بھارت کو باور کراتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان کے بغیر سرینگر اور نئی دہلی کے درمیان مسئلہ کشمیر پر کوئی مذاکرات کامیاب نہیں ہوسکتے کیونکہ کشمیری قیادت بھارتی تسلط کے خلاف بے شمار قربانیاں دے چکی ہے اور پاکستان کی شمولیت کے بغیر کوئی بھی حل قابل قبول یا پائیدار نہ ہو گا۔

میر واعظ عمر فاروق کا کہنا ہے کہ شاہ محمود قریشی کا بیان ہمارے اصولی موقف کی تائید ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہمارا یہ واضح موقف ہے کہ 1947ء سے آج تک تمام دو طرفہ معاہدے ناکام ہوئے،خواہ وہ نئی دہلی، اسلام آباد یا نئی دہلی اور کشمیریوں کے درمیان ہوئے ہوں اور نہ ہی آئندہ ایسے معاہدے کامیاب ہوں گے۔ اس لئے ہم سہ فریقی مذاکرات کی بات کرتے ہیں تاکہ کشمیری پہلے بھارت اور پاکستان سے بات کر سکیں اور پھر تینوں فریق ایک ساتھ مل کر بات کر پائیں۔

میر واعظ نے کہا کہ پاکستان اس مسئلہ کا اہم فریق ہے اور اس کو نظر انداز کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، یہی وجہ ہے کہ حریت وفد پاکستان کا دورہ کرنے جا رہا ہے تاکہ مذاکراتی عمل کے حوالہ سے انہیں بھی آن بورڈ رکھا جا سکے۔ میر واعظ کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ حالات چونکہ سہ فریقی مذاکرات کیلئے سازگار نہیں ،اسلئے ہماری کوشش ہے کہ کشمیریوں کے مسئلہ کے دوسرے دو فریقوں پاکستان اور بھارت کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ شروع ہو، تاکہ تکونی طرز کے مذاکرات کے اس سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے اس کو سہ فریقی مذاکرات میں تبدیل کیا جا سکے۔

پاکستانی وزیر خارجہ کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے بزرگ کشمیری رہ نما اور حریت کانفرنس کے اپنے دھڑے کے چیئرمین سید علی شاہ گیلانی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کشمیر تنازعہ کے حوالہ سے گو کہ پہلا حق، حق خودارادیت ہے لیکن حریت آئین نے دوسرے آپشن کے طورپر سہ فریقی مذاکرات کی بھی گنجائش رکھی ہے جس میں مسئلہ کے تینوں فریق ،بھارت ،پاکستان اور کشمیری عوام کے حقیقی نمائندے شامل ہوں اور مذاکرات کی بنیاد مسئلہ کشمیر اور اس کا تاریخی پس منظر ہو۔

انہوں نے کہا کہ ایسے مذاکرات کے تحت جو بھی حل سامنے آئے وہ کشمیر کی غالب اکثریت کو قابل قبول اور آئین ہند کے باہر ہونا چاہئے۔ بزرگ لیڈر نے مزید کہا کہ پاکستانی وزیر خارجہ کا بیان بالکل صحیح ہے کیونکہ وہ اس مسئلہ کے فریق ہیں اور ان کی شمولیت کے بغیر کوئی حل نہیں نکل سکتا ۔

انہوں نے کہا کہ آج تک دو طرفہ مذاکرات کے ذریعے کوئی بھی حل کامیاب نہیں ہو سکا چاہے وہ حل نئی دہلی اور سرینگر کے درمیان یا نئی دہلی اور اسلام آباد کے درمیان طے پایا تھا،لہٰذا اگر واقعی اس مسئلہ کا کوئی پائیدار حل نکالنا ہے تو اس کیلئے تینوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر بیٹھ کرمسئلہ کشمیر کے تاریخی پس منظر کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسا حل تلاش کرنا ہو گا جو سب کیلئے قابل قبول ہو۔

سید علی شاہ گیلانی نے کہا کہ آئین ہند کے تحت مسئلہ کشمیر کی بات کرنے والے کشمیریوں کے حقیقی نمائندے نہیں کیونکہ وہ جذبات و احساسات کی ترجمانی نہیں کرتے، لہٰذا اگر کبھی سہ فریقی مذاکرات ہوتے ہیں تو اس میں انکا کوئی رول نہیں بنتا کیونکہ وہ بھارت کے موقف کی تائید کر رہے ہیں اور ان کی نمائندگی بھارت خود کر سکتا ہے۔