جمعرات 12 ربيع الثاني 1432هـ - 17 مارچ 2011م
آخری وقت اشاعت: بدھ 26 ذی القعدہ 1431هـ - 03 نومبر 2010م KSA 13:09 - GMT 10:09

چیلنجوں اور مشکلات کو شکست دیکر

روایتی عرب معاشرے میں خواتین نے کامیابی کے علم گاڑ دیئے

اتوار 05 ذی الحجہ 1430هـ - 22 نومبر 2009م
سعودی خواتین نے علمی اور ثقافتی میدان میں نمایاں مقام حاصل کیا ہے
سعودی خواتین نے علمی اور ثقافتی میدان میں نمایاں مقام حاصل کیا ہے
دبئی - فهد سعود

نصف صدی تک رسم و رواج کی اسیر رہنے والی سعودی خواتین آج سائنس، تحقیق سمیت زندگی کے مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات سر انجام دے رہی ہیں جنہیں دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔

پانچ سال پہلے تک عرب اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں ایسی رپورٹس عام ہوتی تھیں کہ جن میں سعودی خواتین کو کسی نہ کسی رسم یا روایت کا اسیر ثابت کرنے کی کوشش ہوتی تھی۔ میڈیا میں شائع اور نشر ہوانے والی رپورٹس کے مطابق ان مخصوص رسم و رواج کی وجہ سے انہیں سوسائٹی میں علمی اور معاشرتی میدان میں کارہائے نمایاں کی انجام دہی میں انتہائی مشکل پیش آتی تھی۔

غادة المطيری
غادة المطيری

فی زمانہ سعودی خواتین دنیا میں ایسے کار ہائے نمایاں سر انجام دے رہی ہیں جن کی مثال عرب دنیا کے کسی ملک دوسرے کی خواتین پیش کرنے سے قاصر ہیں۔ سعودی خواتین کی جہد مسلسل کی ایک حالیہ روشن مثال آنسہ غادۃ عقیل کی ہے جنہوں نے عالمی سطح پر مقابلے میں خواتین کے لئے سب سے بہترین منصوبہ پیش کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔

کثیر الاشاعت امریکی جریدے "ٹائم" نے اپنی پورپی ایڈیشن کے حالیہ شمارے میں صحافی انڈریولی پیٹر کی ایک رپورٹ شائع کی ہے۔ پیٹر نے اپنی خصوصی رپورٹ کے اختتام میں لکھا ہے کہ "سعودی خواتین کی حالت میں بہتری کے آثار نمایاں ہیں۔ انڈریولی کے مطابق قدامت پسند سعودی معاشرے میں خواتین سے متعلق امور میں بہتری کا یہ عمل قدرے سست ہے، تاہم ایک تسلسل سے جاری نظر آتا ہے۔

آج کے دور میں بہت سی ایسی مثالیں عملی طور پر موجود ہیں کہ جہاں سعودی خواتین اپنی کارکردگی کے لحاظ سے مردوں سے بھی آگے نظر آتی ہیں۔ سائنس اور تحقیق کے میدان میں مردوں سے بھی بہتر کارکردگی دکھانے والی سعودی خواتین کی فہرست دوسروں کے علاوہ پروفیسر غادۃ المطیری اور پروفیسر حیاۃ سندی کے نام بغیر نامکمل رہے گی۔ سعودی خواتین کی کامیابیوں کی یہ رفتار دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ مردوں کے لئے مواقع کم ہوتے جا رہے ہیں اور خواتین اپنی کارکردگی اور میرٹ کی بنا پر ان سے آگے نکل رہی ہیں۔

سعودی کامیابیاں

سعودی خواتین کے ہاں کامیابیوں کی داستان میں غادۃ عقیل کا نام نمایاں رہے گا کہ جنہوں نے حال ہی میں عالمی سطح پر ایک مقابلے میں خواتین کے لئے بہترین تجارتی منصوبہ پیش کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔ غادۃ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے سعودی خاتون مودۃ نور نے صرف 23 برس کی عمر میں عرب دنیا کی مثالی دوشیزہ کا لقب حاصل کیا ہے۔

ان کے بعد سعودی خاتون پروفیسر حیاۃ سندی کا نام آتا ہے کہ جنہیں امسال 17 ستمبر کو دنیا کے پندرہ بہترین سائنسدانوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے کہ جن کی تحقیق اور تجربے نے دنیا میں اہم تبدیلیاں بپا کی ہیں۔ سعودی عرب سے تعلق رکھنے والی خاتون سائنسدان کے لئے یہ اعزاز بلا شبہ غیر معمولی پیش رفت ہے۔

مودة نور
مودة نور

سعودی عرب کی ممتاز ادیبہ امیمۃ الخمیس نے خواتین کے کارناموں میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا ہے۔ امیمۃ کی صاحب طرز تحریر"الوارفۃ" سنہ دو ہزار دس کے "پوکر ایوارڈ" کے لئے نامزد ہونے والے تین ناولوں میں سے ایک ہے۔ انہیں اس ایواراڈ کے لئے منتخب کیا جانا اس حقیقت کی غمازی کرتا ہے کہ سعودی خواتین ادب کے میدان میں قابل رشک کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔

سائنس اور طب کے شعبے میں اعلی کارکردگی دکھانے پر ڈاکٹر ھویدا القثامی کو کنگ فیصل ایوارڈ درجہ چہارم کا حقدار قرار دیا گیا ہے۔ ڈاکٹرھویدا بچوں میں امراض قلب کا علاج کرنے مشرق وسطی کی پہلی اور دنیا کی دوسری کنسلٹنٹ ڈاکٹر ہیں۔ ڈاکٹر ھویدا کا شمار دنیا کی پچاس مشہور شخصیات میں ہوتا ہے۔

معروف خاتون سعودی سائنسدان اور ان دنوں قاہرہ کی امریکن یونیورسٹی میں خدمات سر انجام دینے والی پروفیسر ثریا الترکی مصر کے علاوہ دنیا کی مشہور جامعات بشمول ہاورڈ، لاس اینجلز، جارج ٹاون وزٹنگ پروفیسر کے طور تدریس کے فرائض سر انجام دے رہی ہیں۔

حياة السندی
حياة السندی

نامور سعودی خواتین سائنسدانوں کی فہرست میں ایک اور چمکتا نام پروفیسر ایمان ھباس المطیری کا ہے۔ انہوں نے صرف 33 برس کی عمر میں کنگ فیصل یونیورسٹی کی سائنس چیئر کو خیرباد کہا اور ان دنوں وہ امریکا کے شہر شکاگو میں قائم بائیو میڈیکل تحقیقی مرکز سے وابستہ ہیں، جہاں وہ جینیاتی سائنس کے شعبے میں اپنی مہارت کی داد وصول کر کے ملک کا نام روشن کر رہی ہیں۔

جدہ میں کنگ عبد العزیز یونیورسٹی کی فیکلٹی آف میڈیسن اور میڈیکل سائنسز کے شعبہ حیاتیات کی ایسوسی ایٹ پروفیسر فاتن عبد الرحمن خورشید "اونٹ کے پیشاب میں مائیکرو پارٹیکلز اور سرطان کے خلیوں پر کنٹرول" کے موضوع پر اپنی منفرد تحقیق کی وجہ سے عالمی سطح پر جانی جاتی ہیں۔ ان کی اس تحقیق کو ملائشیا کے دارلحکومت کوالالمپور میں ہونے والے مقابلے میں گولڈ میڈل عطا کیا گیا۔ دنیا بھر سے چھے سو نئی ایجادات اور تحقیقی مقالات اس مقابلے میں قسمت آزمائی کے لئے پیش کئے گئے تھے۔ مسسز فاتن عبد العزیز یونیورسٹی میں "الزامل سائنس ریسرچ چیئر" کی نگران بھی ہیں۔

سعودی خواتین کا زندگی کے مختلف شعبوں میں نمایاں کارکردگی کا اظہار ان کی صلاحیتیوں کا برملا اظہار ہے۔ مشکلات اور رکاوٹوں کو خاطر میں نہ لانے والی ان سعودی خواتین کا جہد مسلسل کہانی انہیں اقوام عالم میں ممتاز مقام دلانے کے لئے کافی ہے۔