جمعرات 12 ربيع الثاني 1432هـ - 17 مارچ 2011م
آخری وقت اشاعت: بدھ 26 ذی القعدہ 1431هـ - 03 نومبر 2010م KSA 13:09 - GMT 10:09

"پانی کے سوتے تیزی سے ختم ہو رہے ہیں"

غزہ کا پانی انسانی صحت کے لئے نقصان دہ ہے: اہلکار

اتوار 05 ذی الحجہ 1430هـ - 22 نومبر 2009م
فلسطینی اقوام متحدہ کی ریلیف اور تعمیراتی ایجنسی سے پانی کی بوتلیں اور کنٹینرز بھر رہے ہیں
فلسطینی اقوام متحدہ کی ریلیف اور تعمیراتی ایجنسی سے پانی کی بوتلیں اور کنٹینرز بھر رہے ہیں
غزہ سٹی ۔ ایجنسیاں

محاصرہ زدہ مقبوضہ فلسطینی علاقے غزہ کی پٹی کو فراہم کیا جانے والا پانی نمکیات کی بہتات کے باعث انسانی تصرف کے لئے انتہائی مضر ہوتا جا رہا ہے۔ اس امر کا انکشاف غزہ کو پانی فراہم کرنے والے ادارے کے نگران منذر شبلاک نے ہفتے کے روز جاری ہونے والی اپنی خصوصی رپورٹ میں کیا ہے۔

منذر شبلاک کے خبردار کیا کہ بین الاقوامی تحقیق اور مطالعوں سے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ غزہ کے ساحلی شہر کا پانی انسانی تصرف کے لئے ٹھیک نہیں ہے۔ اسرائیلی محاصرے میں زندگی کے روز و شب گذارنے والے اس خطے میں صرف دس فیصد پانی قابل استعمال رہ گیا ہے۔

اپنی رپورٹ میں شبلاک نے اپیل کی ہے غزہ کو فراہم کئے جانے والے میں شوردگی کے عنصر پر قابو پانے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدام کئے جائیں۔ علاقے میں سیم و تھور کا مسئلہ انتہائی گھمبیر صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ انہوں نے غزہ میں پانی کی صورتحال کو انتہائی "پریشان کن" قرار دیا ہے۔

مسٹر منذر شبلاک نے بتایا کہ گذشتہ برس غزہ کے ڈیڑھ ملین نفوس کی پینے اور آبپاشی کی ضروریات کے لئے زمین سے 160 ملین کیوبک میٹر پانی نکالا گیا، اس کے مقابلے میں زیر زمین پانی کی رصد میں قدرتی طور پر صرف 80-90 ملین کیوبک میٹرز اضافہ ہوا۔

منذر شبلاک کے بیان کے مطابق غزہ کے زیر زمین پانی میں سالانہ 80 ملین کیوبک میٹر سالانہ کے حساب سے کمی واقع ہو رہی ہے، اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو پانی کے یہ قدرتی سوتے آئندہ چند برسوں میں خشک ہو جائیں گے۔

اچانک خاتمے کا خطرہ

امسال ستمبر میں اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام نے بھی قرار دیا تھا کہ غزہ پر اسرائیلی جنگ کے بعد پانی کے استعمال میں ہونے والے اضافے کیوجہ سے زیر زمین پانی کے سوتوں میں تیزی سے کمی کو خطرناک قرار دیا تھا۔

عالمی ادارے کے ماحولیاتی پروگرام کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر پانی کے استعمال میں اضافے کے اس رحجان کو تبدیل نہ گیا تو صورتحال کو بحال کرنے میں کئی صدیاں لگ سکتی ہیں۔ زیر زمین پانی کے سوتوں سے اسرائیل اور مصر بھی یکساں طور پر مسفید ہو رہا ہے، اس لئے صورتحال میں بہتری کے لئے ان ملکوں کے ساتھ بھی کوارڈنیشن کی جانا چاہیئے۔

سنہ دو ہزار سات میں غزہ پر حماس کے کنٹرول کے بعد مصر اور اسرائیل نے غربت سے تباہ حال غزہ کی پٹی کی ناکہ بندی کر رکھی ہے جس کی وجہ سے متعدد سہولیات کے بنیادی ڈھانچے کی دیکھ بھال کا کام بری طرح متاثر ہوا ہے۔

علاقے میں سیوریج کا نظام اسرائیلی حملے کے بعد بری طرح تباہ ہوا کیونکہ تل ابیب غزہ میں لوہے کی پائپ اس خدشے کی وجہ سے درآمد کرنے کی اجازت نہیں دے رہا کہ انہیں حماس راکٹ بنانے کے لئے استعمال کر سکتی ہے۔

عالمی ماحولیاتی ادارے کے تخمینے کے مطابق غزہ کے زیر زمین پانی کو بحال کرنے کے لئے آئندہ بیس برسوں کے لئے ڈیڑھ ارب ڈالر درکار ہوں گے۔ اس کے ساتھ پانی کے زیر زمین سوتوں پر انحصار کم کرنے کے لئے سمندر کے پانی کو صاف کرنے کے پلانٹ بھی لگانا ہوں گے۔