ایران کے سابق نائب صدر کو پانچ برس قید کی سزا
محمد علی ابطحی پر حکومت مخالف مظاہروں میں شرکت کا الزام تھا
یران نے اپنے سابق نائب صدر محمد علی ابطحی کو امسال جون میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں ہنگامہ آرائی کے الزام میں چھے برس قید کی سزا سنائی ہے۔ ادھر اتوار کے روز حکومت مخالف رہ نما میر حسین موسوی نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ عوام کو ڈرا دھمکا کر اپنے سیاسی نظریات تبدیل کرنے سے باز رہے۔
مسٹر ابطحی اصلاح پسند سابق ایرانی صدر محمد خاتمی کے قریبی معاون رہے ہیں۔ انہیں سینکڑوں حکومت مخالف مظاہرین کے ساتھ اس وقت حراست میں لیا گیا تھا جب وہ سخت گیر موقف کے حامی محمود احمدی نژاد کے دوسری بار صدر منتخب ہونے کے سرکاری اعلان پر احتجاج کر رہے تھے۔ محمد علی ابطحی اس وقت سے زیر حراست تھے۔
سابق ایرانی رہ نما کی صاحبزادی نے ayandenews.com سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے والد کو ہفتے کے روز عدالت میں پیش کر کے انہیں چھے برس قید کی سزا سنا دی گئی۔

ویب سائٹ کے مطابق ابطحی پر حکومت کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کا منصوبہ تیار کرنے، حکومت مخالف پروپیگنڈا، صدر مملکت کی توہین، حساس دستاویزات اپنے پاس رکھنے اور غیر قانونی مظاہروں میں شرکت جیسے الزامات پر مبنی فرد جرم عائد کی گئی تھی۔
رپورٹ کے مطابق عدالت نے ان کے ذاتی بلاگ پر پوسٹ کردہ مواد اور ایک غیر ملکی نشریاتی ادارے کو دیئے گئے انٹرویو کے مندرجات کو ان کے خلاف شہادت کے طور پر استعمال کیا۔ پندرہ جون کو تہران میں ہونے والے عظیم الشان احتجاجی مظاہرے میں ان کی شرکت کو بھی ان کے خلاف بطور چارج شیٹ استعمال کیا گیا۔
یاد رہے کہ صدارتی انتخاب کے فورا بعد ہی حراست میں لئے جانے والے ایرانی رہ نما مسٹر ابطحی نے مبینہ طور پر یکم اگست کو پیشی کے موقع پر حکومت مخالف مظاہروں میں شرکت پر معذرت کرتے ہوئے صدارتی انتخاب میں دھاندلی اور فراڈ سے متعلق الزامات واپس لے لئے تھے۔