جمعرات 12 ربيع الثاني 1432هـ - 17 مارچ 2011م
آخری وقت اشاعت: بدھ 26 ذی القعدہ 1431هـ - 03 نومبر 2010م KSA 13:10 - GMT 10:10

حسنی مبارک کا یہودی بستیوں کی تعمیر روکنے کا مطالبہ

یہودی بستیاں امن کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہیں: شمعون پیریز

اتوار 05 ذی الحجہ 1430هـ - 22 نومبر 2009م
صدر حسنی مبارک اپنے اسرائیلی ہم منصب سے قاہرہ میں ملاقات کے دوران ہاتھ ملا رہے ہیں
صدر حسنی مبارک اپنے اسرائیلی ہم منصب سے قاہرہ میں ملاقات کے دوران ہاتھ ملا رہے ہیں
قاہرہ ۔ ایجنسیاں

اسرائیلی صدر شمعون پیریز نے اتوار کے روز اپنے مصری ہم منصب حسنی مبارک سے قاہرہ میں ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران امن کا نوبل انعام پانے والے بزرگ اسرائیلی رہ نما نے اس رائے کا اظہار کیا کہ معطل شدہ امن مذاکرات کے دوبارہ آغاز کی راہ میں یہودی بستیوں کی تعمیر جیسا "معمولی" عنصر رکاوٹ نہیں بننا چاہئے۔

تاہم مصری صدر حسنی مبارک نے شمعون پیریز کے ہمراہ مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تل ابیب کو سنہ 67 میں اپنے زیر قبضہ آنے والے علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر کو بند کرنا چاہئے۔ مسٹر مبارک کا کہنا تھا کہ اسرائیل یہ "دلیرانہ فیصلہ" کر کے امن عمل کو آگے بڑھائے۔

مصر اور دوسرے عرب ممالک نے امریکا پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ یہودی بستیوں کی تعمیر رکوانے کے لئے اسرائیل پر ناکافی دباو ڈال رہے ہیں۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ان یہودی بستیوں میں آباد کاروں کے خاندانوں میں ہونے والی فطری نمو کیوجہ سے ان بستیوں میں توسیع وقت کا تقاضہ ہے۔

فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے یہودی بستیوں کی تعمیر روکنے تک اسرائیل سے امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں اسرائیل کو عملی اقدام پر مجبور کرنے کے لئے اسرائیل پر مزید دباو ڈالنے کا مطالبہ دہرایا ہے۔

امریکی صدر براک اوباما اسرائیل کی جانب سے یہودی بستیوں میں نئی تعمیر کی منظوری کو "انتہائی خطرناک" اقدام قرار دے چکے ہیں کیونکہ یہ فلسطینیوں کے غصے کے لئے جلتی پر تیل کا کام کرے گا، جس سے امن مذاکرات کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ مسٹر اوباما نے اسرائیل کے اس موقف کی حمایت کی ہے کہ یہودی بستیوں کی تعمیر مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع کرنے کے سلسلے میں بنیادی شرط نہیں ہونا چاہئے۔

اسرائیل میں صدر کا عہدہ نمائشی حیثیت رکھتا ہے تاہم شمعون پیزیز کی سیاسی حلقوں میں کافی پذیرائی ہے۔ انہوں نے نیوز کانفرنس میں سوالوں کا جواب دیتے ہوئے اس رائے کا اظہار کیا کہ یہودی بستیوں کی تعمیر کا معاملہ غیر متناسب انداز سے اٹھایا جا رہا ہے۔

فوری مذاکرات شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے صدر شمعون پیریز کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے یہودی بستیوں کی تعمیر روکنا ایک ذیلی معاملہ ہے۔ ایک غلط وجہ سے اسے مرکزی نکتے کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے۔ ان کے رائے میں یہ معاملہ بھی مذاکرات سے طے پانے والے معاہدے کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔

امن ممکن ہے

حسنی مبارک نے اس ملاقات سے ایک روز پہلے ایک بیان میں کہا تھا کہ اسرائیل امن مذاکرات کی راہ میں روڑے اٹکا رہا ہے۔ ملاقات کے بعد بھی شمعون پیریز نے حسنی مبارکے کے ساتھ مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب بھی وقت ہے کہ نئے سرے سے امن مذاکرات بحال کئے جائیں اور یہ وقت ہاتھ سے نہ جانے دیا جائے۔

مسٹر مبارک کا کہنا تھا کہ "اب بھی وقت گواہ ہے کہ امن عمل بحال کرنے کی گنجائش موجود ہے اور یہ موقع ہاتھ سے کھونا نہیں چاہئے۔ میں کہتا ہوں کہ امن کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے اور اسرائیل کو مشرق وسطی کے حقیقی معاملات تسلیم کرنے کے سلسلے میں سیاسی عزم کا مظاہرہ کرے اور امن کے اقدامات میں کمی کے خطرے کو محسوس کرے۔