دبئی - العربية.نیٹ
بھارت میں سعودی عرب کے سفیر فیصل الطراد نے دہشت گردی کے موضوع پر بین الاقوامی کانفرنس کا بائیکاٹ کر دیا۔ بھارت میں ہونے والی اس دو روزہ کانفرنس سے خطاب کے دوران ہندوستان کے سرکردہ وکیل اور سابق وزیر قانون رام جیٹھملانی نے سعودی عرب کو دہشت گردی کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔ دو روزہ اس اجلاس میں بھارت کی صدر پرتیبھا پاٹل بھی شرکت کر رہی تھیں۔
لندن سے شائع ہونے والے کثیر الاشاعت عرب روزنامے "الشرق الاوسط" کے مطابق رام جیٹھملانی کے اس بیان کے بعد اجلاس میں شرکت کرنے والے سعودی عرب کے سفیر فیصل الطراد احتجاجاً وہاں سے چلے گئے۔ لیکن اجلاس منعقد کرنے والے آدیش اگروال کے مطابق مرکزی وزیر ویرپّا موئلی کے کہنے پر وہ اجلاس میں دوبارہ شریک ہوئے۔
مسٹر جیٹھملانی نے کہا ' یہ ایک افسوس کی بات ہےکہ 17 ویں صدی میں سعودی عرب ميں ان لوگوں نے ایک ایسا انسان پیدا کیا جس کا نام تھا وہاب، جسے مسلم دنیا کے زوال کی فکر تھی لیکن انہوں نے ایک غلط طریقہ کار اپنایا۔' انہوں نے الزام عائد کیا کہ وہابی نوجوانوں کے ذہن میں گندگی بھر کر انہیں دہشتگرد حملے کرنے کو اکسا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا 'ہندوستان کے اس ملک کے ساتھ دوستانہ تعلقات رہے ہیں جو وہابی دہشت گردی کی حمایت کرتا ہے۔
جیٹھملانی نے یہ بھی کہا کہ یہ ایک افسوس کی بات ہے کہ دہشت گردی کے لیے پورے اسلام کو ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔ لیکن یہاں تو ہندو دہشت گرد بھی موجود ہيں اور بودھ دہشتگرد بھی۔ جیٹھملانی نے یہ بھی کہا کہ وہ سبھی مذاہب کے طالب علم رہ چکے ہیں جس میں اسلام بھی شامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پیغمبرِ اسلام کی وہ بہت عزت کرتے ہیں جو بقول ان کے امن پسند شخص تھے۔
رام جیٹھملانی کے نظریے کو ذاتی نظریہ قرار دیتے ہوئے مرکزی وزیر ویرپّا موئلی نے کہا' دہشتگردی کو کسی مذہب کے ساتھ جوڑا نہیں جا سکتا ہے کیونکہ کوئی بھی مذہب دہشتگردی کی تعلیم نہيں دیتا ہے۔' انہوں نے یہ بھی کہا کہ جو نظریہ مسٹر جیٹھملانی نے ظاہر کیا ہے حکومت اس سے اتفاق نہیں رکھتی ہے۔
|
