پیر 25 ربيع الأول 1432هـ - 28 فروری 2011م
آخری وقت اشاعت: اتوار 09 ذی القعدہ 1431هـ - 17 اکتوبر 2010م KSA 00:34 - GMT 21:34

میزائلوں سے 2 مکان اور 2 گاڑیاں تباہ

شمالی وزیرستان: امریکی ڈرون کے 2 میزائل حملوں میں 9 افراد ہلاک

بدھ 01 ربيع الثاني 1431هـ - 17 مارچ 2010م
شمالی وزیرستان میں گذشتہ روز بھی امریکی ڈرون طیارے نے میزائل حملہ کیا تھا.فائل
شمالی وزیرستان میں گذشتہ روز بھی امریکی ڈرون طیارے نے میزائل حملہ کیا تھا.فائل
اسلام آباد.العربیہ،ایجنسیاں

پاکستان کے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیاروں دو مقامات پر میزائل حملے کیے ہیں جن کے نتیجے میں نو افراد مارے گئے ہیں.

اطلاعات کے مطابق امریکی سی آئی اے کے بغیر پائلٹ جاسوس طیارے نے بدھ کے روز شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ قریب واقع ایک بستی میں ایک مکان اور ایک گاڑی پر چار میزائل فائر کیے جس سے مکان اور گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہے. پاکستانی سکیورٹی حکام کے مطابق اس حملے میں چھے جنگجو مارے گیے ہیں.

اس حملے کے پچاس منٹ بعد میران شاہ سے چالیس کلومیٹر مغرب میں واقع مداخیل کے قصبے میں امریکی ڈرون طیارے نے ایک گاڑی پر تین میزائل فائر کیے. اس حملے میں تین جنگجوٶں کی ہلاکت کی اطلاع ہے.البتہ فوری طور پر ان کی شناخت کے بارے میں کچھ پتا نہیں چل سکا.

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حملے کے بعد جنگجوٶں نے علاقے کا محاصرہ کر لیا اور وہ تباہ شدہ مکان کے ملبے سے لاشیں نکال رہے تھے۔ فوری طور پر یہ بھی معلوم نہیں ہو سکا کہ مہلوکین میں طالبان یا القاعدہ کا کوئی سرکردہ لیڈر بھی شامل تھا یا نہیں۔

گذشتہ روز بھی شمالی وزیرستان میں امریکی ڈرونز کے میزائل حملے میں نو افراد مارے گیے تھے۔ان میں سے بعض کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ غیر ملکی تھے. تاہم ان غیر ملکیوں کی شہریت کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا. واضح رہے کہ غیر ملکی کی اصطلاح علاقے میں موجود القاعدہ سے وابستہ جنگجوٶں کے لیے استعمال کی جاتی ہے.

واضح رہے کہ امریکی سی آئی اے نے افغانستان کے مشرقی شہر خوست میں 30 دسمبر کو اپنے سات اہلکاروں کی ایک خودکش بم دھماکے میں ہلاکت کے بعد سے شمالی وزیرستان میں میزائل حملے تیز کر رکھے ہیں اور گذشتہ اڑھائی ماہ کے دوران اس کے بغیر پائلٹ جاسوس طیاروں نے اس علاقے میں کم سے کم تیس حملے کیے ہیں.

دو فروری کو شمالی وزیرستان میں طالبان جنگجوٶں کے متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا اور ڈرون طیاروں نے ایک دن میں اٹھارہ میزائل فائر کئے تھے جن میں اکتیس افراد مارے گیے تھے۔شمالی وزیرستان کا یہ علاقہ طالبان کمانڈر حافظ گل بہادر کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے اور ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ طالبان جنگجوٶں کو اپنے ہاں پناہ دیتے اور انہیں سرحد پار قابض غیرملکی فوجوں کے خلاف لڑائی کے لئے بھیجتے رہتے ہیں۔